وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر کی درخواست
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر ممکنہ حملے روک دیے گئے ہیں۔ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ
امریکی صدر نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ پاکستانی قیادت کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ توسیع اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے متفقہ تجاویز پیش نہیں کی جاتیں اور مذاکرات کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا صورتحال کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا خواہاں ہے، تاہم دفاعی تیاری برقرار رکھی جائے گی۔
ناکہ بندی برقرار رکھنے کی ہدایت
صدر ٹرمپ نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہا جائے۔ اس اقدام کو دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کا ردعمل
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے مشیر مہدی محمدی نے امریکی اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی دراصل ایک قسم کی جارحیت ہے جس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔
مذاکرات پر غیر یقینی صورتحال
ایران کی جانب سے تاحال امریکا سے مذاکرات میں شرکت کے لیے وفد بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس صورتحال کے باعث خطے میں غیر یقینی کیفیت برقرار ہے۔
نتیجہ
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں فوری جنگ کا خطرہ وقتی طور پر ٹلتا دکھائی دیتا ہے، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ آنے والے دنوں میں مذاکرات کی پیش رفت ہی خطے کے مستقبل کا تعین کرے گی۔
مزید پڑھیں
امریکا نے ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد پر نئی پابندیاں لگادیں











