نوزائیدہ بچوں میں ایم پاکس کے کیسز
پاکستان میں نوزائیدہ بچوں میں ایم پاکس (منکی پاکس) کے کیسز سامنے آنے پر ماہرینِ صحت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اسپتالوں میں ناقص صفائی اور مؤثر آئسولیشن سسٹم کی کمی اس وائرس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔
اسپتالوں میں کراس انفیکشن کا خطرہ
آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ مریضوں کے درمیان جراثیم کی منتقلی (کراس انفیکشن) کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ بعض اسپتالوں میں غیر معیاری انتظامات ہیں۔ ان کے مطابق ایک ہی جگہ پر متعدد مریضوں کا علاج اور صفائی کے مناسب اقدامات نہ ہونا بیماری کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
سندھ میں کیسز کی تصدیق
ماہرِ اطفال و متعدی امراض ڈاکٹر فاطمہ میر کے مطابق سندھ کے علاقے خیرپور میں ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں بچوں میں بخار، کمزوری اور جلد پر پانی والے دانے جیسے علامات دیکھی گئی ہیں۔ بعض کیسز میں سنگین صورتحال بھی سامنے آئی ہے۔
بیماری کی علامات اور پھیلاؤ
ماہرین کے مطابق ایم پاکس کی ابتدائی علامات میں بخار، سستی اور جسمانی کمزوری شامل ہیں، جس کے بعد جلد پر تکلیف دہ دانے ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ بیماری قریبی جسمانی رابطے، آلودہ کپڑوں، بستروں اور بعض صورتوں میں سانس کی بوندوں کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
بڑھتا ہوا مقامی خطرہ
ماہرِ متعدی امراض ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا ہے کہ یہ بیماری اب صرف بیرونِ ملک سے آنے والے افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ مقامی سطح پر بھی اس کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق 2025 میں پاکستان میں 53 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ اب مقامی ٹرانسمیشن کے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔
احتیاطی تدابیر کی ضرورت
ماہرین نے زور دیا ہے کہ متاثرہ افراد کو فوری طور پر الگ رکھا جائے، اسپتالوں میں صفائی اور ماسک و دستانوں کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ ان کے مطابق بروقت احتیاطی اقدامات سے اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
مصنوعی ذہانت نے فلم انڈسٹری کا انداز بدل دیا، کیا روایتی فلم سازی ختم ہو جائے گی؟










