علی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ، ایران کی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش، 2 ہلاک سولر پاور کے فروغ نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ جنگ کے اثرات سے بچا لیا ساٹھ سیکنڈ میں دشمن کے 5 طیارے گرانے والے ایم ایم عالم کی آج 13ویں برسی ہم اپنے شیڈول سے آگے ہیں: علی لاریجانی کی شہادت کے بعد امریکی صدر کا بیان
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

پلاسٹک کی بوتل سے خطرناک بیماری کی دوا تیار

Scientists converting plastic bottles to Parkinson's medicine

سائنسدانوں کا نیا کارنامہ

ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے پہلی بار پلاسٹک کی بوتلوں کو استعمال کر کے پارکنسنز (رعشہ) بیماری کی دوا تیار کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ دریافت پلاسٹک کے کچرے کے ماحول دوست حل اور بیماری کے علاج دونوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

پلاسٹک کچرے سے دوا بنانے کا طریقہ

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے محققین نے ای کولی  بیکٹیریا کو انجینئر کیا ہے۔ تاکہ وہ پولی ایتھیلین ٹریفتھالیٹ  پلاسٹک کو توڑ کر ایل-ڈی او پی اے میں تبدیل کرے۔ جو پارکنسنز کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔

تحقیق کے اہم نتائج

تحقیق سے پتہ چلا ہے۔ کہ پلاسٹک کے ماحول میں پھیلنے والے کچرے کو مثبت استعمال میں لا کر پارکنسنز کے مریضوں کے لیے زیادہ سستی اور دستیاب ادویات تیار کی جا سکتی ہیں۔ بایوٹیکنالوجی اور جراثیمی انجینئرنگ کے ذریعے مخصوص بیکٹیریا یا مائیکروارگنزم کو استعمال کر کے پلاسٹک کے مالیکیولز کو فعال بایوکیمیکلز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف ماحول میں پلاسٹک کی آلودگی کم ہوگی۔ بلکہ پارکنسنز جیسی نیورولوجیکل بیماریوں کے علاج کے لیے کم قیمت اور مؤثر ادویات فراہم کرنا ممکن ہوگا۔ یہ جدت ماحولیاتی اور طبی شعبے میں نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔

مستقبل کی راہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے۔ کہ اس تکنیک سے نہ صرف پارکنسنز کی دوا بنائی جا سکتی ہے۔ بلکہ دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے بھی پلاسٹک کے کچرے کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ طریقہ دوا سازی اور ماحولیات دونوں میں انقلاب لا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں
سولر پاور کے فروغ نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ جنگ کے اثرات سے بچا لیا

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

مقبول پوسٹس

اشتہار

بلیک فرائیڈے

سماجی اشتراک

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

:متعلقہ مضامین