لاہور مین ہول حادثہ: جاں بحق ماں بیٹی کی نمازِ جنازہ آج، میتیں آبائی گاؤں پہنچ گئیں پاک افغان سرحد کی بندش سے پختونخوا کو 7 ماہ میں 4 ارب روپے کا بھاری نقصان اڈیالہ جیل کا قیدی سزا مکمل کیے بغیر رہا نہیں ہوگا، فیصل کریم کنڈی بھاٹی گیٹ واقعہ: وزیراطلاعات پنجاب نے متاثرہ خاندان سے معافی مانگ لی
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

اڈیالہ جیل کا قیدی سزا مکمل کیے بغیر رہا نہیں ہوگا، فیصل کریم کنڈی

Faisal Karim Kundi statement on Adiala Jail prisoner release

پشاور

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ اڈیالہ جیل کا قیدی اپنی سزا مکمل کیے بغیر رہا نہیں ہوگا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا واحد ایجنڈا یہی نظر آتا ہے کہ قیدی کو کس طرح آزاد کرایا جائے، تاہم قانون کے مطابق قیدی سزا پوری کرنے کے بعد ہی رہا ہو سکتا ہے۔

اسپتال منتقلی پر وضاحت

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اگر قیدی کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے تو کسی مریض کا علاج کرنا کوئی غلط بات نہیں۔ انہوں نے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر متنازع بنانے پر بھی تنقید کی۔

وادی تیراہ میں آپریشن کی خبروں کی تردید

گورنر خیبرپختونخوا نے وادی تیراہ میں آپریشن کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ کے لوگ ہر سال سردیوں میں نقل مکانی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت تیراہ کے حوالے سے صرف لفظی جنگ جاری ہے، زمینی حقائق مختلف ہیں۔

نقل مکانی اور آئی ڈی پیز سے متعلق صورتحال

فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ اس سال صوبائی حکومت نے اس مد میں چار ارب روپے مختص کیے ہیں اور آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق پچاس سے ساٹھ فیصد لوگ ممکنہ آپریشن کے خدشے کے باعث نقل مکانی کر گئے، جبکہ ماضی میں سردیوں کے دوران یہ شرح تیس فیصد تک ہوتی تھی۔

دہشتگردی کے خلاف آپریشن پر دوٹوک مؤقف

گورنر نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف ہر جگہ آپریشن ہوگا، چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا۔ ان کے مطابق چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک جہاں بھی دہشتگرد موجود ہیں، وہاں کارروائی کی جائے گی۔

پی ٹی آئی پر تنقید

فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ دو پارٹیاں بنا لے، ایک پارٹی کا نام تحریک انصاف رکھے اور دوسری کا نام تحریک انتشار رکھ دے۔

اٹھائیسویں ترمیم پر مؤقف

ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا عید کے بعد اٹھائیسویں آئینی ترمیم آرہی ہے، گورنر نے جواب دیا کہ اگر ایسی کوئی ترمیم آتی ہے تو اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہوگی۔

عمران خان کی صحت سے متعلق حکومتی مؤقف

وفاقی وزیر عطا تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں اور انہیں صرف آنکھوں کے معائنے کے لیے اسپتال لے جایا گیا تھا۔
دوسری جانب بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ جیل میں عمران خان کی مختلف بیماریوں کا علاج ہوتا رہا ہے اور اسپتال لے جانا کوئی نان ایشو نہیں۔

مزید پڑھیں
پاک افغان سرحد کی بندش سے پختونخوا کو 7 ماہ میں 4 ارب روپے کا بھاری نقصان

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

مقبول پوسٹس

اشتہار

بلیک فرائیڈے

سماجی اشتراک

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

:متعلقہ مضامین