ای سی سی کا بڑا فیصلہ
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاسکو کو پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم نیلام کرنے اور پنجاب کو تین لاکھ ٹن گندم فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ نیلام ہونے والی گندم میں تین لاکھ ٹن مہنگی درآمدی گندم بھی شامل ہے، جسے سبسڈی کے ساتھ فروخت کیا جائے گا۔
درآمدی گندم کی فروخت پر بھاری مالی نقصان
ای سی سی کے فیصلے کے مطابق درآمدی گندم رعایتی نرخوں پر فروخت کی جائے گی، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بیس اعشاریہ پانچ ارب سے بائیس ارب روپے تک کے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فی چالیس کلو گرام درآمدی گندم پر تقریباً دو ہزار تین سو پچپن روپے نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
ذخیرہ کرنے کی لاگت بھی بڑا بوجھ
حکام کے مطابق پاسکو کے پاس اس وقت بیس لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے، جسے ذخیرہ رکھنے پر سالانہ گیارہ ارب روپے سے زائد اخراجات آ رہے ہیں۔ حکومت پہلے ہی پاسکو کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے، جس کے باعث گندم کے ذخیرے کو جلد از جلد ٹھکانے لگانا ناگزیر ہو گیا ہے۔
پنجاب کو گندم فراہمی، وفاق کو مزید خسارہ
ای سی سی نے پنجاب کو تین لاکھ ٹن گندم فراہم کرنے کی بھی اجازت دی ہے، جو چار ہزار ایک سو پچاس روپے فی چالیس کلو کے حساب سے دی جائے گی۔ اس فیصلے سے وفاقی حکومت کو تقریباً چار اعشاریہ چار ارب روپے کا مزید نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
معاشی منصوبہ بندی پر سوالات
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ناقص معاشی اور تجارتی منصوبہ بندی کی عکاس ہے، جہاں پہلے مہنگی گندم درآمد کی گئی اور اب اسے سبسڈی کے ساتھ فروخت کیا جا رہا ہے۔ حکومت کو ایک جانب مالی خسارے کا سامنا ہے تو دوسری طرف خوراک کی فراہمی اور قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانا بھی چیلنج بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں
تصادم کی نئی لہر،پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے تمام رابطے مکمل طور پر منقطع










