امریکا و اسرائیل کے سامنے ہرگز سرنڈر نہیں کریں گے: ایرانی صدر کا دوٹوک اعلان بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون و راکٹ حملوں کی بارش، شدید حملے کی اطلاعات نیٹو پر اربوں خرچ کیے مگر دفاع میں ساتھ نہیں، آبنائے ہرمز پر مدد نہ ملنے پر ٹرمپ کے شکوے خارگ پر حملہ ہوا تو متعلقہ ملک کی آئل تنصیبات نشانہ بنیں گی: ایران
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

تصادم کی نئی لہر،پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے تمام رابطے مکمل طور پر منقطع

PTI and establishment political standoff in Pakistan

پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مکمل تعطل

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان نہ صرف براہِ راست بلکہ بالواسطہ رابطوں کے تمام ذرائع بھی مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ پارٹی کے سینئر ذرائع کے مطابق وہ حکومتی شخصیات بھی اب رابطے میں نہیں رہیں جو ماضی میں بیک چینل یا غیر رسمی روابط کا حصہ تھیں۔

رابطوں کے خاتمے کی بنیادی وجوہات

ذرائع کے مطابق اس تعطل کی بڑی وجہ پی ٹی آئی کی مسلسل احتجاجی سیاست اور ریاستی اداروں کے خلاف جارحانہ عوامی بیانیہ ہے۔ پارٹی کے اندر یہ رائے مضبوط ہو چکی ہے کہ احتجاج اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے، جس کے باعث اس وقت بات چیت کا راستہ مکمل طور پر بند ہے۔

آٹھ فروری کے احتجاج سے محدود توقعات

اسی تناظر میں پی ٹی آئی نے 8 فروری کو ملک بھر میں پرامن احتجاج کا اعلان کیا ہے، تاہم پارٹی کے اندر بھی اس احتجاج سے کسی بڑی پیش رفت کی توقعات محدود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مؤثر احتجاج کا دائرہ زیادہ تر خیبر پختونخوا تک محدود رہنے کا امکان ہے جبکہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر احتجاج کے امکانات کم ہیں۔

مستقبل کی سیاسی سمت غیر یقینی

پارٹی ذرائع کے مطابق 8 فروری کے بعد پی ٹی آئی کی آئندہ سیاسی حکمتِ عملی غیر واضح دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی کے اندر اس بات پر غور جاری ہے کہ مذاکرات، تنظیمی مضبوطی اور عوامی متحرک کیے بغیر طویل محاذ آرائی کس حد تک مؤثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر موجودہ معاشی صورتحال کے پیشِ نظر۔
مزید پڑھیں
کھلے مین ہول پر وزیراعلیٰ پنجاب برہم، 24 گھنٹوں میں رپورٹ کا حکم

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین