کیٹو ڈائٹ اور وزن کم کرنے کے فوائد
وزن تیزی سے کم کرنے کے لیے کیٹو ڈائٹ دنیا بھر میں مقبول ہو رہی ہے۔ اس میں زیادہ چکنائی اور نہایت کم کاربوہائیڈریٹس والی خوراک شامل ہوتی ہے، جو وقتی طور پر بھوک کم کرنے اور وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
سائنسی تحقیق کے نتائج
امریکی سائنس دانوں کی حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ طویل مدتی کیٹو ڈائٹ جگر کے خلیات کی ساخت اور رویے کو بنیادی طور پر بدل سکتی ہے۔ جگر بار بار زیادہ چکنائی کے دباؤ میں رہنے سے خلیات غیر پختہ یا ابتدائی حالت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ عارضی بقا کے لیے مددگار ہو سکتا ہے، مگر مستقبل میں بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافہ کر دیتا ہے۔
جگر کے خلیات میں تبدیلی کا عمل
تحقیق کے مطابق جینز جو خلیات کو زندہ رکھنے میں مدد دیتے ہیں، فعال ہو جاتے ہیں۔ جینز جو جگر کے معمول کے افعال کے لیے ضروری ہیں، دب جاتے ہیں۔ اس عدم توازن سے جگر کے نظام کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور کینسر کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
تحقیق میں چوہوں اور انسانی ڈیٹا کا مطالعہ
تحقیق میں چوہوں کو طویل مدت تک زیادہ چکنائی والی غذا دی گئی، جس کے نتیجے میں تقریباً تمام چوہوں میں جگر کا کینسر پیدا ہو گیا۔
انسانوں میں بھی جگر کی مختلف بیماریوں کے مریضوں میں یہی رجحان دیکھا گیا، جہاں خلیاتی بقا سے جڑے جینز مضبوط اور معمول کے جینز کمزور ہو گئے، اور نتیجتاً زندگی کی مدت کم ہو گئی۔
ماہرین کی ہدایات
کیٹو ڈائٹ یا کسی بھی وزن کم کرنے والی ڈائٹ کو اپنانے سے پہلے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیں۔ طرزِ زندگی کے عوامل جیسے شراب نوشی، وائرل انفیکشنز، اور مجموعی صحت بھی جگر کی حالت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ماہرین اب تحقیق کر رہے ہیں کہ متوازن غذا یا جدید ادویات، جیسے GLP-1 انجیکشنز، اس نقصان کو پلٹا سکتے ہیں یا نہیں۔
خلاصہ
اگرچہ کیٹو ڈائٹ فوری وزن کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے، مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مستقبل میں سنگین بیماریوں، خصوصاً جگر کے کینسر کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ نوجوان اور بالغ دونوں کو اس کے اثرات سے آگاہ رہنا چاہیے۔
مزید پڑھیں
پاکستان میں تیز رفتار انٹرنیٹ، وزیر کے مطابق جون تک دوگنا ہوگا











