اگر استعفے سے کراچی بچتا ہے تو ابھی چھوڑنے کو تیار ہوں، مصطفیٰ کمال بالائی علاقوں میں برف کا قہر، رابطہ سڑکوں کی بندش، 2 افراد جاں بحق لاہور میں لٹکتی تاروں اور اوورلوڈ کیبلز کے مسئلے پر کمیٹی قائم
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ٹریفک آرڈیننس: عملدرآمد جاری یا معطل؟ اہم وضاحت سامنے آ گئی

Traffic ordinance implementation in Punjab

ٹریفک آرڈیننس پر عملدرآمد سے متعلق اہم وضاحت

سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ پنجاب میں ٹریفک آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔ مختلف غیر مصدقہ پوسٹس میں شہریوں کو یہ تاثر دیا گیا کہ حکومت نے جرمانوں اور قانونی کارروائیوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ فیکٹ چیک کے مطابق یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ایسی کوئی باقاعدہ ہدایت یا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا جس میں ٹریفک قوانین کو معطل کرنے کا کہا گیا ہو۔

پنجاب حکومت کا مؤقف

صوبائی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ٹریفک آرڈیننس پر عمل درآمد مکمل طور پر جاری ہے۔ حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں۔ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قوانین نافذ العمل ہیں اور معمول کے مطابق کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

مریم اورنگزیب کی وضاحت

صوبائی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے صوبے بھر میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کی ہے۔ان کے مطابق قانون شکنی پر کسی بھی سطح کی نرمی نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ شہریوں اور بچوں کی جانوں کے تحفظ کا معاملہ ہے۔

آگاہی مہم میں تیزی

حکومت نے متعلقہ محکموں کو ٹریفک قوانین کے حوالے سے عوامی آگاہی مہم تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے تاکہ ڈرائیورز اور عام شہری درست معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔

نتیجہ

سرکاری وضاحت کے مطابق ٹریفک آرڈیننس پر عمل درآمد مکمل طور پر جاری ہے اور اسے روکنے کے حوالے سے چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ قوانین پر سختی سے عمل جاری رکھے جانے کا فیصلہ برقرار ہے۔
مزید پڑھیں
وزیراعظم کا بڑا فیصلہ: گھریلو صارفین کیلئے گیس لوڈشیڈنگ ختم

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین