پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں؟چیئرمین پی سی بی کی وزیراعظم سے اہم ملاقات پریس کلب لاہور الیکشن: جرنلسٹ گروپ نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی،ٹرمپ بورڈ آف پیس میں مسئلہ کشمیر بھی اٹھا سکتے ہیں سہیل آفریدی کا سخت ردعمل،تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

دو سال بعد غزہ اسلامک یونیورسٹی میں کلاسز دوبارہ شروع

Gaza Islamic University classes resume after two years

دو سال بعد غزہ اسلامک یونیورسٹی میں کلاسز

غزہ میں دو برس کے وقفے کے بعد تعلیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ جنگ سے تباہ حال شہر میں اسلامک یونیورسٹی آف غزہ نے ٹوٹی پھوٹی عمارت میں دوبارہ کلاسز شروع کرکے امید کی کرن روشن کردی ہے۔ اس اقدام نے طلبہ اور تعلیمی نظام کے لیے نئی زندگی فراہم کی ہے۔

جنگ سے متاثرہ تعلیمی اداروں کی بحالی

جنگ کے دوران یونیورسٹی کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ کئی بلاکس مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے جبکہ دیواریں اور کلاس رومز بری طرح متاثر ہوئے۔ اس کے باوجود شعبہ ادویات اور ہیلتھ سائنسز کے طلبہ نے جزوی طور پر بحال شدہ کلاسوں میں واپسی اختیار کرلی ہے۔

دو سال تک معطل رہنے والا تعلیمی سلسلہ

گزشتہ دو برس کے دوران تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر رکی رہیں۔ آن لائن تعلیم بھی موثر ثابت نہ ہوسکی کیونکہ نقل مکانی، بجلی کی کمی اور تباہ شدہ تعلیمی ڈھانچہ اس عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ رہے۔ اس عرصے میں غزہ کے پورے تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچا۔

تعلیمی اداروں کی تباہی کے اعداد و شمار

فلسطینی حکام کے مطابق ایک سو پینسٹھ تعلیمی ادارے مکمل تباہ ہوئے۔ تین سو بانوے ادارے جزوی طور پر متاثر ہوئےیہ تباہی غزہ کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

بے گھر خاندانوں کی پناہ گاہ بننے والی عمارتیں

اسلامک یونیورسٹی کی کچھ عمارتیں اب بھی ان بے گھر خاندانوں کی رہائش کے طور پر استعمال ہورہی ہیں۔ جن کے گھروں کو جنگ میں نقصان پہنچا تھا۔ انتظامیہ نے حکومت سے اپیل کی ہے۔ کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری متبادل رہائش فراہم کی جائے تاکہ تدریسی عمل مستقل بنیادوں پر بحال ہوسکے۔

تدریسی عمل کی بحالی—ایک تاریخی دن

اسلامک یونیورسٹی کے صدر نے کلاسز کے آغاز کے دن کو تاریخی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کا حوصلہ ثابت کرتا ہے۔ کہ فلسطینی قوم علم اور زندگی سے جڑے رہنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تعلیمی سرگرمیاں بتدریج پوری طرح بحال ہوجائیں گی۔
مزید پڑھیں
چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن میں تاخیر سے کوئی آئینی خلا پیدا نہیں ہوتا

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

مقبول پوسٹس

اشتہار

بلیک فرائیڈے

سماجی اشتراک

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

:متعلقہ مضامین