۔چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن
حکومت کی جانب سے نئے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے نوٹیفکیشن پر غور جاری ہے۔ مگر قوانین کے مطابق اس نوٹیفکیشن کے اجراء کی کوئی مقررہ مدت نہیں، اس لیے اس میں تاخیر سے نہ کوئی آئینی خلاء پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی انتظامی مسئلہ۔
فوجی کمان کی موجودہ صورتحال
پاک فوج کی کمان مکمل طور پر موجودہ آرمی چیف کے پاس ہے، جو 27ویں آئینی ترمیم کے مطابق فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز ہیں۔ ترمیم کے مطابق آرمی چیف کی نئی مدت اس وقت شروع ہوگی جب سی ڈی ایف کا نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔
نیا ڈھانچہ اور نئی مدت
ترمیم شدہ قانون کے مطابق سی ڈی ایف کے ڈوئل عہدے کے نوٹیفکیشن کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت دوبارہ شروع تصور ہوگی۔ نوٹیفکیشن کی تاریخ سے نئی پانچ سالہ مدت آغاز کرے گی۔ قانون میں واضح ہے۔ کہ موجودہ آرمی چیف کا عہدہ نوٹیفکیشن کے روز سے از سرِ نو شروع مانا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کی مدت کیوں لازم نہیں؟
قانون سازی میں سی ڈی ایف نوٹیفکیشن کے لیے کوئی لازمی مدت شامل نہیں کی گئی۔ جس سے حکومت اور عسکری قیادت کو یہ سہولت ملتی ہے کہ وہ مرحلہ وار فیصلے اپنی سہولت کے مطابق کریں۔ نوٹیفکیشن سے پہلے تک آرمی چیف کے اختیارات میں کوئی کمی نہیں آتی۔
نئے عہدے اور اختیارات
قانون کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرکے ’’کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ‘‘ کا نیا عہدہ قائم کیا گیا ہے۔ جو سی ڈی ایف کے ماتحت ہوگا۔ کمانڈر کی تقرری، توسیع اور دوبارہ تقرری کا مکمل اختیار وزیراعظم کو حاصل ہوگا۔ جس پر عدالتی نظرثانی نہیں ہوسکے گی۔
نئی اصلاحات کا مقصد
حکومت کا کہنا ہے۔ کہ یہ اصلاحات افواج میں بہتر ہم آہنگی، مشترکہ صلاحیت اور جدید کمانڈ اسٹرکچر کی مضبوطی کے لیے کی گئی ہیں۔ تمام قانونی ترامیم مکمل ہونے کے بعد اب توجہ اس زیر التواء نوٹیفکیشن پر ہے جو نئے دفاعی نظام کے عملی آغاز کا نقطہ ہوگا۔
حکومتی مؤقف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے۔ کہ سی ڈی ایف کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے غیر ضروری قیاس آرائیاں درست نہیں۔ ان کے مطابق کام جاری ہے اور اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں
دو سال بعد غزہ اسلامک یونیورسٹی میں کلاسز دوبارہ شروع











