پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں؟چیئرمین پی سی بی کی وزیراعظم سے اہم ملاقات پریس کلب لاہور الیکشن: جرنلسٹ گروپ نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی،ٹرمپ بورڈ آف پیس میں مسئلہ کشمیر بھی اٹھا سکتے ہیں سہیل آفریدی کا سخت ردعمل،تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا بڑا اسکینڈل، شہریوں سے کھربوں کی لوٹ مار

Private housing society fraud in Islamabad and Rawalpindi

اسلام آباد اور راولپنڈی میں بڑے فراڈ کا انکشاف

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں نجی ہاؤسنگ اسکیموں اور کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کی جانب سے بڑے پیمانے پر فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ کئی برسوں کے دوران شہریوں سے کھربوں روپے لوٹنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ جس میں جعلی ممبرشپس، زمین کی عدم موجودگی کے باوجود فروخت، اور مارکیٹنگ کے ذریعے غلط بیانی شامل ہے۔

نیب تحقیقات میں ہوشربا حقائق

باخبر ذرائع کے مطابق نیب راولپنڈی کی تحقیقات میں معلوم ہوا۔ کہ متعدد ہاؤسنگ اسکیموں نے اپنے منظور شدہ لے آؤٹ پلانز سے تقریباً 91 ہزار زائد پلاٹس اور فائلیں فروخت کیں۔ مزید یہ کہ 20 ہزار ممبرشپس ایسی زمین کے بغیر جاری کی گئیں۔ جو اسکیموں کے پاس موجود ہی نہیں تھی۔

زمین کی جعلسازی اور فرضی منصوبوں کی مارکیٹنگ

تحقیقات میں سامنے آیا۔ کہ ہاؤسنگ اسکیموں نے 80 ہزار کنال ایسی زمین کی تشہیر اور فروخت کی جو ان کے منصوبوں کا حصہ ہی نہیں تھی۔ ایک مخصوص نجی اسکیم نے تو صرف 4 ہزار کنال زمین  کی منظوری مانگی۔ مگر مارکیٹنگ میں اسے 80 ہزار کنال کا میگا پراجیکٹ ظاہر کیا گیا اور شہریوں سے 50 سے 60 ارب روپے تک وصول کیے گئے۔

زمین خریدنے میں ناکامی اور عدم شفافیت

تین سال گزرنے کے باوجود یہ اسکیم محض 34 ہزار کنال زمین خرید سکی، وہ بھی غیر مربوط اور بغیر منصوبہ بندی کے۔ اسکیم نے اب تک ریگولیٹر سے کوئی منظوری یا این او سی بھی حاصل نہیں کیا۔ جس سے ہزاروں الاٹیز شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کی بڑی بے ضابطگیاں

ریگولیٹری طور پر محفوظ سمجھی جانے والی کوآپریٹو سوسائٹیز بھی جعلسازی میں ملوث پائی گئیں۔ ان سوسائٹیز نے بھی20 ہزار ممبرشپس زمین کے بغیر جاری کیں65 ہزار زائد پلاٹس ایسی زمین پر فروخت کیے۔ جہاں قبضہ دینا ممکن ہی نہیں ایک سوسائٹی کے 5 ہزار ممبرز آج بھی قبضے کے منتظر ہیں۔

متاثرین کی مشکلات اور سرکاری ردعمل

سرکاری حکام کے مطابق سینکڑوں ارب روپے شہریوں سے لوٹے جا چکے ہیں۔ متاثرین میں سرکاری ملازمین، پیشہ ور افراد، ریٹائرڈ شہری اور متوسط طبقے کے لوگ شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی کمائی گھروں کی امید پر لگائی۔ ڈی جی نیب راولپنڈی وقار چوہان کے مطابق ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے نیب اصلاحاتی پیکیج تیار کیا جا رہا ہے۔ تاکہ ان بڑے مسائل کو حل کیا جا سکے اور مستقبل میں شہریوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔

ریگولیٹری کمزوریاں اور مارکیٹنگ فراڈ

ماہرین کے مطابق یہ بحران بدانتظامی، ریگولیٹری خامیوں اور ہاؤسنگ ڈویلپرز کی جانب سے جان بوجھ کر دھوکہ دہی کا نتیجہ ہے۔ مختلف سوسائٹیز برسوں سے ترقیاتی کام اور قبضے کی یقین دہانیاں تو کراتی رہیں۔ مگر آج تک عملی پیشرفت نہ ہو سکی۔
مزید پڑھیں
سیفٹی اصول توڑنے پر نیشنل گرڈ کمپنی کو ایک کروڑ روپے جرمانہ

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

مقبول پوسٹس

اشتہار

بلیک فرائیڈے

سماجی اشتراک

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

:متعلقہ مضامین