بلوچستان سے 8 لاکھ افغان مہاجرین افغانستان جاچکے، تقریباً 23 ہزار اب بھی کوئٹہ میں موجود جمائما گولڈ اسمتھ نے دوسری شادی کی تصاویر جاری کردیں، مداحوں کا شکریہ بھی ادا کیا سعودی عرب میں دہشتگردی اور قتل کے جرم میں پاکستانی شہری کو سزائے موت دے دی گئی یورپی یونین کا برطانیہ، کینیڈا، ناروے اور یوکرین کے ساتھ یورپی سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

پی ٹی آئی اور فضل الرحمان قریب؟ اہم انکشاف

Fazlur Rehman speaking to media in Charsadda

پی ٹی آئی سے تعلقات بہتر بنانے کا اشارہ

مولانا نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی سے اختلاف رکھنا چاہتے ہیں، دشمنی نہیں۔ ان کا مقصد تعلقات میں بہتری اور تلخیوں کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی جانب سے خیبر پختونخوا میں عدم اعتماد کی بات پی ٹی آئی کے خلاف نہیں بلکہ اندرونی تبدیلی کی تجویز تھی۔

ریاستی اداروں پر شدید تنقید

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ادارے دہشتگردی کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں، اور اپنی ناکامی کا بوجھ عوام پر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ چار دہائیوں سے جاری دہشتگردی پر قابو نہ پانا اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

ریاستی اداروں پر سخت موقف

فضل الرحمان نے کہا کہ ریاستی ادارے اپنے رویے پر غور کریں، عوام کو دھمکانے کے بجائے انسانیت سے بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے ہر بار عوام کو نقل مکانی پر مجبور کرتے ہیں، جبکہ اصل ذمہ داری ان کی ہے کہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کریں۔

مدارس آرڈیننس پر تحفظات

انہوں نے مدارس ترمیمی بل کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مدارس اصلاحات میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ فیصلہ صرف وفاق المدارس اور دینی تنظیمات کو کرنا چاہیے۔

مسلم لیگ ن اور اپوزیشن پر تنقید

فضل الرحمان نے مسلم لیگ ن کی جانب سے مخصوص نشست پر عدالت جانے کو حکومت کے لیے مدد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اپوزیشن کی سرگرمیاں صوبائی حکومت کو فائدہ دے رہی ہیں۔افغان پالیسی پر بھی سوالات انہوں نے کہا کہ افغانستان سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پہلے حملے اور بعد میں مذاکرات کی پالیسی نقصان دہ ہے، اور حکومت کو حکمت عملی تبدیل کرنی چاہیے۔

نتیجہ

مولانا فضل الرحمان کی گفتگو نے نہ صرف ریاستی اداروں کی کارکردگی بلکہ اپوزیشن کے کردار پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ساتھ ہی، انہوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا عندیہ دے کر سیاسی ماحول میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

مزید پڑھیں

اگست میں تحریک اپنے عروج پر ہوگی؟ پی ٹی آئی کا بڑا دعویٰ

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین