وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس پر ردعمل
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ایک رسمی پریزنٹیشن وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کو ایک رسمی پریزنٹیشن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی اس حوالے سے مکمل بریفنگ لے چکے تھے اور اجلاس میں پیش کی جانے والی معلومات ان کے لیے نئی نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل ان معاملات پر میٹنگز کرتے رہتے ہیں، اس لیے انہیں ہر پیش رفت کا علم ہوتا ہے۔ تاہم، دیگر افراد کی گفتگو سے ایک بات واضح ہوگئی کہ انتخابات میں مینڈیٹ چوری ہوا ہے۔
مولانا فضل الرحمان سے دو اہم سوالات
علی امین گنڈاپور نے نیوز انسائٹ ود عامر ضیاء میں گفتگو کے دوران بتایا کہ انہوں نے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان سے دو سوالات کے جواب مانگے جو انہیں نہیں مل سکے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ مولانا نے ایک موقع پر کہا کہ عمران خان کی حکومت انہوں نے گرائی، جبکہ دوسری جگہ بیان دیا کہ انہیں بلایا گیا اور یہ کام انجام دیا گیا۔ اس تضاد کی وضاحت نہیں کی گئی۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ اگر مینڈیٹ چوری ہوا ہے تو واضح کیا جائے کہ کس نے چوری کیا؟ مگر اس سوال کا بھی کوئی جواب نہ ملا۔
سیکیورٹی چیلنجز اور عوامی اعتماد کی ضرورت
علی امین گنڈاپور نے سیکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے کہا کہ اگر عوام کا اعتماد حکومت کے ساتھ نہ ہو تو مسائل سے نمٹنا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ تاہم، دہشت گردی کے خلاف سب ایک پیج پر ہیں اور اس کے خاتمے کے لیے متحد ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی استحکام تب تک ممکن نہیں جب تک عمران خان جیل میں ہیں۔
ماضی کے آپریشنز سے حاصل ہونے والے نتائج
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ماضی میں کیے گئے آپریشنز نے فائدے کے بجائے نقصان پہنچایا کیونکہ جو وعدے کیے گئے تھے، وہ پورے نہیں کیے گئے۔ اس سے عوام میں حکومت پر اعتماد کم ہوا، اور کئی عام شہری بھی ان آپریشنز کی زد میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے آپریشنز کرنے کے بجائے سرحدوں کی بہتر حفاظت پر توجہ دی جائے کیونکہ اربوں روپے خرچ کرکے لگائی گئی فینسنگ (باڑ) متعدد مقامات پر توڑ دی گئی ہے اور وہاں سے غیر قانونی آمد و رفت جاری ہے۔
اچھے اور برے طالبان کی پالیسی پر تنقید
علی امین گنڈاپور نے حکومت کی گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی پالیسی پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اس پالیسی پر عوام کو اعتماد نہیں ہے، حتیٰ کہ پولیس بھی اعتبار نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ نام نہاد اچھے طالبان کھلے عام گھوم رہے ہیں، بھتہ وصول کر رہے ہیں، حملے کر رہے ہیں، زمینوں کے مسائل حل کرنے کے نام پر اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں، اور حتیٰ کہ اغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں بھی ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کسی گروہ کی پشت پناہی کرتی ہے، تو عوام کا اعتماد حکومت سے اٹھ جاتا ہے۔
خیبرپختونخوا پولیس کی کارکردگی
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اپنے فرائض انجام دے رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کی عملداری موجود ہے۔ کرک میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد عوام نے دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھائی اور پولیس کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ دس سال کی حکومت کے ذمہ دار نہیں ہیں، لیکن اپنے ایک سال کی کارکردگی کے جوابدہ ہیں۔ انہوں نے سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ) کی حالت میں نمایاں بہتری لانے کا دعویٰ کیا۔
عمران خان کا پیغام: سب کو معاف کرنے اور مذاکرات پر آمادگی
علی امین گنڈاپور نے عمران خان کے حوالے سے کہا کہ وہ ملک کی بہتری کے لیے سب کو معاف کرنے اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن پاکستان کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی مختلف اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت ہوئی ہے اور سب نے اس پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ساتھ چلنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی پیچھے ہٹے گا، اسے بے نقاب کیا جائے گا۔
اتحاد کی ضرورت اور سیاسی خطرات
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مائنس کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن پارٹی کو اندرونی اتحاد کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی ایک منظم قوت ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری کو تجربہ کار سیاستدان قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب ون سائز فٹ آل کے اصول پر چلتے ہیں، جبکہ مولانا ہر جگہ اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔
اختتامی خیالات: سب سے بڑی طاقت کون؟
اپنی گفتگو کے اختتام پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ سب سے زیادہ خطرناک لوہا ہے، جو ہر چیز کو کاٹ دیتا ہے۔ لوہے سے زیادہ خطرناک آگ ہے، جو لوہے کو پگھلا دیتی ہے۔ آگ سے زیادہ خطرناک پانی ہے، جو آگ کو بجھا دیتا ہے۔ پانی سے زیادہ خطرناک انسان ہے، جو پانی پی جاتا ہے۔ انسان سے زیادہ خطرناک موت ہے، جو انسان کو ختم کر دیتی ہے۔ اور موت سے زیادہ خطرناک وہ مولوی ہے، جو صدقہ بھی کھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں