پاکستان کی سیاسی اور معاشی صورتحال: ایک نظر
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے دعا ہے کہ عید اور اس سے پہلے کے دن پرامن گزریں۔ انھوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ رمضان المبارک میں ملک میں بہت خون بہا، خاص طور پر علمائے کرام اور فوجی جوانوں کا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دعا ہے کہ پاکستان ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رہے۔
پارٹی میں گروپنگ کی خبروں کی وضاحت
علی محمد خان نے اس تاثر کو رد کیا کہ تحریک انصاف میں کسی قسم کی گروپنگ یا فارورڈ بلاک بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام فیصلے مرکزی قیادت کی اجازت سے ہوتے ہیں اور عمران خان کی ہدایت کے بغیر کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ مزید یہ بھی واضح کیا کہ جنید صاحب نے پارٹی کے ایک اندرونی گروپ میں وضاحت کی ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا جس سے کسی بڑے فیصلے کا تاثر لیا جا سکے۔
پاکستانی معیشت اور آئی ایم ایف
معروف تجزیہ کار اطہر کاظمی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی پہلی حکومت نہیں جو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر خوش ہو رہی ہے۔ اس سے قبل بھی حکومتیں یہی دعوے کرتی رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت سے قبل یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے لیکن بعد میں وہ بھی وہاں گئے اور اس کے فوائد گنوانے لگے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری معیشت ایسے حالات میں ہے کہ ایک، دو یا دس سال تک ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ چلنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ہر سیاسی جماعت کو ایک جامع منصوبہ پیش کرنا ہوگا تاکہ ملک کو اس دلدل سے نکالا جا سکے۔ تاہم، بدقسمتی سے ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
معاشی بحران اور ڈیفالٹ کے خدشات
تجزیہ کار شوکت پراچہ نے کہا کہ آج کی حکومت خوش ہو رہی ہے کیونکہ اس سے قبل بعض حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ ملک دیوالیہ ہو چکا ہے اور صرف اعلان باقی ہے۔ حتیٰ کہ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ پاکستان سری لنکا بننے جا رہا ہے۔ اس دوران، جب سری لنکا کی معیشت بحران کا شکار تھی، تو وہاں کے اسٹیٹ بینک کے گورنر نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا وہ واقعی دیوالیہ ہو چکے ہیں، تو ان کا جواب نفی میں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب کسی معیشت پر دیوالیہ ہونے کے سائے منڈلا رہے ہوں، تو پھر ہر ممکن سہارا لینا ضروری ہو جاتا ہے۔ پاکستان کو بھی اسی تناظر میں معاشی استحکام کے لیے درست سمت میں فیصلے کرنے ہوں گے۔
مزید پڑھیں
عمران اور بلاول کی ملاقات – ایک دلچسپ سیاسی پیش رفت، اسد عمر