سحر و افطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا حکم، گیس بھی بلاتعطل جاری پابندیاں ناکام، ایمان غالب؛ مسجد اقصیٰ میں تراویح کے لیے سمندر امڈ آیا عمران خان کی آنکھ کا معاملہ سنجیدہ، اس پر سیاست نہیں ہو رہی: بیرسٹر گوہر شہباز شریف اور امیر قطر کا ٹیلیفونک رابطہ، امن و استحکام پر ملکر کام کرنے پراتفاق
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

میں چاہتا ہوں کہ سعودی عرب اسرائیل سے تعلقات بحال کرے: ڈونلڈ ٹرمپ

Trump’s remarks on Saudi-Israel relations and Middle East peace during Saudi Arabia visit

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دورے کے دوران اہم بیانات دیے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کا اسرائیل کو تسلیم کرنا ایک تاریخی قدم ہوگا، جو مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا اور کئی اہم فیصلے کیے۔

سعودی عرب کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا موقف

ٹرمپ نے سعودی عرب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، جسے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے لیے ایک اہم اور مثبت قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا اسرائیل سے تعلقات بحال کرنا نہ صرف سعودی عرب کے لیے فائدہ مند ہوگا، بلکہ یہ پورے خطے کے لیے بھی اہم ہوگا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ سعودی عرب کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے اس خطے میں امن اور ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔

مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک نیا قدم

ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب کا اسرائیل کو تسلیم کرنا مشرق وسطیٰ کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔ ان کے مطابق اس اقدام سے پورے خطے کی سیاسی صورت حال میں تبدیلی آ سکتی ہے، اور یہ ایک نیا دور شروع کر سکتا ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور اعتماد کی فضاء قائم ہو سکے۔ اس کے ذریعے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے کئی نئے راستے کھلیں گے۔

ایران اور پاکستان-بھارت کے تنازعات پر ٹرمپ کی رائے

ٹرمپ نے ایران کے بارے میں بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ امن کے لیے ڈیل کرنا ان کی خواہش ہے، لیکن اگر ایران نے اس موقع کو گنوا دیا تو سخت پابندیاں جاری رکھی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخی فائر بندی کو امریکی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے دونوں ممالک کو ایٹمی میزائل کی بجائے تجارت کرنے کی ترغیب دی، جس کے نتیجے میں جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا۔

نتیجہ

ٹرمپ کے بیانات سعودی عرب کے دورے کے دوران ایک نئی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اور اس کے ساتھ تعلقات بحال کرنا اس خطے کی سیاسی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے اہم قدم ہوگا۔ اس دوران امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان 142 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید استحکام لائے گا۔

مزید پڑھیں

حکومتی دعوے بے بنیاد، پی ٹی آئی کہیں نہیں گئی: فیصل چوہدری

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین