خواجہ سعد رفیق: عمران خان کی بینائی پر تشویشناک خبریں، ملاقات کی اجازت دی جائے ٹی 20 ورلڈکپ: پاکستان اور بھارت کا اہم میچ بارش سے متاثر ہونے کا خدشہ پاکستان جاپان نہ بن سکا، بنگلادیش اور بھارت آگے نکل گئے: احسن اقبال متحدہ عرب امارات کے اسکولوں میں سافٹ ڈرنکس، چاکلیٹ اور فرائز پر پابندی
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ٹرمپ کا یورپ کو روسی تیل کے بائیکاٹ اور چین پر دباؤ ڈالنے کا مشورہ

Trump urges Europe to ban Russian oil imports and pressure China over Ukraine war

ٹرمپ کا یورپی رہنماؤں کو پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ روسی تیل کی خریداری بند کریں اور چین پر معاشی دباؤ ڈالیں تاکہ یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے میں مدد مل سکے۔

کوالیشن آف دی ولنگ کا اجلاس

وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بیان یوکرینی صدر اور یورپی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے کوالیشن آف دی ولنگ (Coalition of the Willing) کے اجلاس میں دیا۔ یہ اتحاد یوکرین کی سلامتی اور جنگ کے خاتمے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

روسی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی

ٹرمپ نے اجلاس کے دوران کہا کہ یورپ کی جانب سے روسی تیل کی خریداری سے حاصل ہونے والی رقم یوکرین جنگ میں استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فنڈنگ روس کے لیے جنگ جاری رکھنے کا اہم ذریعہ ہے۔

روس کی سالانہ آمدنی پر دعویٰ

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک سال میں روس نے یورپ کو ایندھن فروخت کر کے ایک ارب یورو سے زائد آمدنی حاصل کی ہے، جو یوکرین میں اس کی فوجی کارروائیوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

چین پر معاشی دباؤ کی ضرورت

ٹرمپ نے یورپی رہنماؤں کو خبردار کیا کہ روس کو حاصل بیرونی حمایت کو ختم کرنے کے لیے چین پر بھی دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو روس کی حمایت سے باز رکھنے کے لیے سخت معاشی اقدامات کیے جائیں۔

یوکرین جنگ کے خاتمے پر زور

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ روس کو مالی وسائل اور سیاسی حمایت سے محروم کر کے ہی یوکرین جنگ کو روکا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عالمی برادری کے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

عالمی ردعمل

ٹرمپ کے ان بیانات پر یورپی رہنماؤں کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق روسی تیل کی درآمد پر پابندی اور چین پر دباؤ ڈالنے کے معاملے پر مزید مشاورت جاری ہے۔

مزید پڑھیں

رواں سال کا دوسرا چاند گرہن کب وقوع پذیر ہوگا؟

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین