شام نے سابق صدر بشار الاسد کے دور کے مبینہ خفیہ کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق باقیات کو تلف کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی تنظیم (OPCW) نے اس عمل کی تصدیق کی ہے۔
کیمیائی ہتھیاروں کی باقیات تلف کرنے کا عمل شروع
شامی حکام نے سابق حکومت کے دور میں قائم مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام سے جڑی باقیات کو ختم کرنے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔ اس عمل کا مقصد خطے اور عالمی سطح پر سلامتی کو بہتر بنانا قرار دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ اور او پی سی ڈبلیو کی نگرانی
اقوام متحدہ کے امور تخفیفِ اسلحہ اور کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی تنظیم اس عمل کی نگرانی کررہی ہیں۔ حکام کے مطابق تلفی کے اقدامات کی تصدیق بین الاقوامی ماہرین کی نگرانی میں کی جارہی ہے۔
سابق دور کے پروگرام کی تحقیقات
بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں سابق کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق مزید معلومات سامنے آئیں۔ حکام نے مبینہ طور پر ایسے مقامات، مواد اور دستاویزات کی نشاندہی کی جن کا تعلق اس پروگرام سے بتایا گیا۔
42 فضائی بموں کی تباہی کی تصدیق
رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ نے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق 42 فضائی بموں اور کچھ تنصیبات کی تصدیق شدہ تباہی کے عمل کا ذکر کیا ہے۔ یہ پیش رفت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کی کوششوں میں اہم قدم قرار دی جارہی ہے۔
18 مشتبہ افراد کی گرفتاری
شامی حکام کے مطابق سابق کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام میں مبینہ طور پر ملوث 18 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سابق فوجی، سیاسی اور تکنیکی عہدیدار بھی شامل بتائے گئے ہیں۔
عالمی سلامتی کیلئے اہم اقدام
شامی حکام کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کی باقیات ختم کرنا عالمی اور علاقائی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی اس عمل کو شفاف انداز میں مکمل کرنے پر زور دیا ہے۔
عمل میں مشکلات کا سامنا
کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق مواد کو تلف کرنے کا عمل تکنیکی طور پر پیچیدہ ہے۔ شام میں سکیورٹی صورتحال، متاثرہ مقامات اور علاقائی کشیدگی اس عمل کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
شام میں احتساب کا عمل
کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق تحقیقات کو سابق دور کے اقدامات کے احتساب سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کو انصاف فراہم کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔
مزید پڑھیں
سمریتی مندھانا کا شاندار کارنامہ، ویمنز انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز اور سنچریوں کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا









