پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شامل ٹیکسوں نے عوام پر اضافی مالی دباؤ ڈال دیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عوام ہر لیٹر پیٹرول پر 100 روپے سے زائد جبکہ ڈیزل پر 94 روپے سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔
یہ ٹیکس مختلف مدات جیسے پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس کی صورت میں وصول کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ٹیکسوں کا بڑا حصہ شامل ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے:
اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں
سفری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے
کاروباری لاگت زیادہ ہو جاتی ہے
عوامی ردعمل اور حکومتی مؤقف
عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی جائے تاکہ مہنگائی کا دباؤ کم ہو سکے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکس آمدن ملکی معیشت کے استحکام اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ضروری ہے، تاہم عوام مہنگائی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
نتیجہ
پیٹرول پر 100 روپے اور ڈیزل پر 94 روپے سے زائد فی لیٹر ٹیکس عوام کے لیے ایک بڑا معاشی بوجھ بن چکا ہے۔ موجودہ صورتحال میں حکومتی پالیسیوں اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن قائم کرنا اہم چیلنج ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستان کے خلاف جیت کے باوجود بھارتی کھلاڑی آپس میں الجھ پڑے، ویڈیو وائرل










