ایک نئی عالمی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا بدنیتی پر مبنی استعمال اور جوہری جنگ رواں صدی کے
اختتام تک انسانیت کی بقا کیلئے سنگین خطرات بن سکتے ہیں۔ طبی جریدے دی لینسیٹ کے تحت عالمی خطرات کا جائزہ لینے والے ماہرین کے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں جوہری تنازع، جوہری جنگ کے نتیجے میں ممکنہ قحط اور اے آئی کی مدد سے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کو ایسے خطرات میں شامل کیا ہے جو انتہائی صورت میں انسانی نسل کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ان خطرات کا امکان کم ہونے کے باوجود ان کے ممکنہ نتائج انتہائی تباہ کن ہوسکتے ہیں۔
اے آئی اور جوہری جنگ کو بڑے عالمی خطرات قرار
رپورٹ کے مطابق دنیا کو درپیش خطرات کا جائزہ لینے کیلئے 35 ماہرین پر مشتمل کمیشن نے بیماریوں، ماحولیاتی تبدیلی، معاشی مسائل، ٹیکنالوجی اور مسلح تنازعات سمیت متعدد شعبوں کا مطالعہ کیا۔ اس جائزے میں اے آئی کے غلط استعمال اور جوہری جنگ کو ایسے خطرات میں شمار کیا گیا جن کے انتہائی سنگین نتائج پوری انسانیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان خطرات کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کی روک تھام کیلئے پیشگی منصوبہ بندی اور عالمی سطح پر تعاون ضروری ہے۔
مصنوعی ذہانت سے حیاتیاتی ہتھیاروں کا خطرہ
تحقیق میں مصنوعی ذہانت کے بدنیتی پر مبنی استعمال، خصوصاً حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری میں ممکنہ کردار، پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اے آئی جدید سائنسی تحقیق کو تیز کرسکتی ہے، لیکن اسی صلاحیت کا غلط استعمال خطرناک حیاتیاتی مواد کی تیاری یا اس سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس خطرے سے نمٹنے کیلئے حیاتیاتی تحقیق کی نگرانی، محفوظ ٹیکنالوجی کی تیاری اور اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق مؤثر ضوابط اہم ہیں۔ تاہم رپورٹ یہ نہیں کہتی کہ اے آئی کے ذریعے انسانی نسل کا خاتمہ یقینی ہے، بلکہ اسے ایک ممکنہ انتہائی خطرناک منظرنامے کے طور پر پیش کرتی ہے۔
جوہری جنگ کے بعد عالمی قحط کا خدشہ
رپورٹ میں جوہری جنگ کے ممکنہ اثرات کو صرف فوری جانی نقصان تک محدود نہیں رکھا گیا۔ بڑے پیمانے پر جوہری دھماکوں سے پیدا ہونے والا دھواں اور ذرات فضا کی بالائی تہوں تک پہنچ کر سورج کی روشنی کو متاثر کرسکتے ہیں، جس سے درجہ حرارت، فصلوں کی پیداوار اور عالمی خوراک کی فراہمی پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ایسی صورتحال میں خوراک کی قلت اور قحط سرحدوں سے آگے پھیل سکتے ہیں اور دنیا کے مختلف خطوں میں انسانی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ اسی لیے رپورٹ میں جوہری تنازعات کی روک تھام کو عالمی صحت اور انسانی بقا کے تحفظ سے جوڑا گیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور دیگر 15 بڑے خطرات بھی شامل
رپورٹ میں اے آئی اور جوہری جنگ کے علاوہ 15 دیگر بڑے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں فضائی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، اینٹی مائیکروبیل مزاحمت، بچوں میں غذائی قلت، قدرتی وبائیں، روایتی جنگیں، غربت، بلند فشار خون اور ذہنی صحت کے مسائل شامل ہیں۔
کمیشن کے مطابق ان خطرات کے اثرات ایک دوسرے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر موسمیاتی تبدیلی خوراک کی قلت کو بڑھا سکتی ہے، جبکہ تنازعات صحت کی سہولیات اور امدادی نظام کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اس لیے ان مسائل کا الگ الگ جائزہ لینے کے بجائے باہمی تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔
خطرات سے بچاؤ کیلئے عالمی تعاون ضروری
ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ تباہ کن بحرانوں کے پیدا ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے ابھی سے ان کی روک تھام کیلئے اقدامات کریں۔ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا، بین الاقوامی سفارت کاری کو مضبوط بنانا، حیاتیاتی تحفظ کے اصولوں پر عمل کرنا اور اے آئی کی محفوظ ترقی کیلئے ضوابط بنانا اہم اقدامات ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مستقبل کا انحصار صرف ٹیکنالوجی کی ترقی پر نہیں بلکہ اس کے ذمہ دارانہ استعمال اور عالمی تعاون پر بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق بروقت فیصلوں، مؤثر پالیسیوں اور صحت کے مضبوط نظام کے ذریعے ان خطرات کو کم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
مزید پڑھیں
وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دے دی







