نیویارک میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات وائٹ ہاؤس نے سی این این سمیت تین بڑے میڈیا اداروں کے نمائندوں کیلئے دروازے کھول دیے بیوروکریسی اور اعلیٰ اداروں کی شخصیات کا حساس ڈیٹا بیرون ملک فروخت کرنے والا گروہ گرفتار پشاور میں سی ٹی ڈی کا دہشتگردوں کے خلاف آپریشن، ایک خودکش بمبار ہلاک
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ملک بھر کے منتخب اضلاع میں ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز

Sub-National Polio Campaign Begins Across Selected Districts of Pakistan

ملک بھر کے منتخب اضلاع میں ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، جبکہ لاکھوں پولیو ورکرز گھر گھر جاکر بچوں کو ویکسین پلانے کی ذمہ داری انجام دیں گے۔

115 اضلاع میں پولیو مہم شروع

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) کے مطابق ملک کے 115 منتخب اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم جاری ہے۔ اس مہم کا مقصد زیادہ سے زیادہ بچوں تک رسائی حاصل کرکے انہیں پولیو وائرس سے محفوظ بنانا ہے۔

3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

حکام کے مطابق مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

لاکھوں پولیو ورکرز خدمات انجام دیں گے

انسدادِ پولیو مہم میں 2 لاکھ 73 ہزار سے زائد پولیو ورکرز حصہ لے رہے ہیں۔ پولیو ٹیمیں مختلف علاقوں میں گھر گھر جاکر بچوں کو ویکسین پلائیں گی۔

صوبوں میں پولیو مہم کا دائرہ

پنجاب کے منتخب اضلاع میں لاکھوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں بھی مہم چلائی جارہی ہے۔

والدین سے تعاون کی اپیل

حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔

پولیو کے خاتمے کیلئے مسلسل کوششیں

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے مختلف سطحوں پر مہمات جاری ہیں۔ صحت حکام کے مطابق وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانا ضروری ہے۔

پولیو ورکرز کا اہم کردار

پولیو ورکرز دشوار گزار علاقوں سمیت مختلف مقامات پر بچوں تک پہنچ کر ویکسینیشن کا عمل مکمل کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق ان کی کوششیں بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

عوامی تعاون ضروری قرار

حکام کا کہنا ہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ عوامی تعاون بھی انتہائی اہم ہے۔ والدین کی بروقت شمولیت سے مہم کے اہداف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے
مزید پڑھیں
اے آئی ایجنٹ کی سائبر مداخلت، آسٹریلیا کا ہیلتھ کیئر سسٹم خود ہی ہیک کرلیا گیا

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین