اگر استعفے سے کراچی بچتا ہے تو ابھی چھوڑنے کو تیار ہوں، مصطفیٰ کمال بالائی علاقوں میں برف کا قہر، رابطہ سڑکوں کی بندش، 2 افراد جاں بحق لاہور میں لٹکتی تاروں اور اوورلوڈ کیبلز کے مسئلے پر کمیٹی قائم
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

اپوزیشن نے ایک نکتے پر اعتراض کیا، باقی نکات مان لیے: پرویز رشید

Pervaiz Rasheed says opposition accepted most points of amendment

عدلیہ سے متعلق نکتے پر اپوزیشن کی تقریریں

مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اپوزیشن نے آئینی ترمیم پر صرف عدلیہ سے متعلق ایک نکتے پر اعتراضات اٹھائے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی تمام تقاریر اسی ایک شق کے گرد گھومتی رہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ باقی نکات پر انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن نے عملاً ترمیم کے دیگر حصے تسلیم کرلیے ہیں۔

عدلیہ کو سیاسی اثر سے بچانے کی ضرورت

سینیٹ خطاب میں پرویز رشید کا کہنا تھا کہ بعض عناصر نے عدلیہ کو سیاسی جماعتوں کا آلہ کار بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ جج کے چوغے کے نیچے پارٹی کا جھنڈا چھپا کر فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی مثالیں ماضی میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق نظام کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ عدلیہ کو ایسے اثر و رسوخ سے پاک رکھا جائے۔

آئینی ترمیم پر علی ظفر کی رائے کا جواب

پرویز رشید نے کہا کہ سینیٹر علی ظفر نے صرف تصویر کا وہ حصہ دکھایا ۔ جو انہیں پسند ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت کا وہ رخ سامنے نہیں لایا گیا۔ جس میں عدلیہ کے کردار پر سوالات اٹھے۔ ان کے مطابق اصلاحات کا مقصد صرف ایک مضبوط اور غیرجانبدار نظام کی طرف بڑھنا ہے۔

میثاق جمہوریت اور عمران خان کے دستخط

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سینیٹ میں کہا۔ کہ آئینی عدالت کا تصور نیا نہیں بلکہ میثاق جمہوریت کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2006 میں لندن میں ہونے والے معاہدے پر بے۔ نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ عمران خان سمیت تمام بڑی جماعتوں کے قائدین نے اتفاق کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اس پر اعتراضات خود ان جماعتوں کے اپنے ہی مؤقف کی نفی ہے۔

افنان اللہ کا سابقہ عدالتی فیصلوں پر اعتراض

ن لیگ کے سینیٹر افنان اللہ نے کہا۔ کہ وہ عدلیہ جو ایک خاص جماعت کے لیے سہولت کاری کرتی رہی، اپوزیشن کو تب پسند تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس بندیال نے اپنے پسندیدہ ججز کے ساتھ مل کر فیصلے کیے۔ ان کے مطابق آج اپوزیشن عدلیہ کی آزادی کی بات کرتی ہے مگر ماضی میں اسی عدلیہ نے آئین کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا۔

سیاسی ماحول میں تناؤ برقرار

ترمیم پر ہونے والی بحث نے پارلیمنٹ کے اندر کشیدگی بڑھا دی ہے۔ اپوزیشن اسے سیاسی انجینئرنگ قرار دے رہی ہے۔ جبکہ حکومتی رہنما اصلاحات کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔ دونوں جانب کے سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کہ آئندہ دنوں میں پارلیمنٹ میں ماحول مزید گرم رہنے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں
غزہ میں ترک فوج کی انٹری برداشت نہیں ہوگی، اسرائیل کا واضح پیغام

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین