عالمی تیل مارکیٹ میں ہلچل
آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی تیل مارکیٹ میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حالات یہی رہے تو تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
سپلائی بحران کی سنگینی
دنیا کو تاریخ کے بڑے تیل سپلائی بحران کا سامنا ہے، جو ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ، اقتصادی ترقی کی رفتار میں کمی اور کئی ممالک میں فیول کی قلت کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
ماہرین کی وارننگ
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام اور مالیاتی تجزیہ کار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ قیمتیں غیر معمولی سطح تک جا سکتی ہیں۔ کئی ماہرین نے اس صورتحال کا موازنہ 1970 کی دہائی کے تیل بحران سے کیا ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا تھا۔
سپلائی میں نمایاں کمی
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل سپلائی میں یومیہ لاکھوں بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل راستوں سے سپلائی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ اقدامات مکمل طور پر خلا کو پُر نہیں کر پا رہے۔
توانائی کے شعبے پر اثرات
اس بحران کے باعث تیل کے ساتھ ساتھ گیس، دھاتوں اور دیگر صنعتی شعبوں پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یورپ میں ڈیزل کی قلت کا خدشہ ہے جبکہ ایشیا میں بھی ایندھن کی طلب اور رسد میں عدم توازن پیدا ہو رہا ہے۔
عالمی اقدامات اور محدود اثر
امریکا اور دیگر ممالک نے تیل کے ذخائر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے، جبکہ ایران نے محدود پیمانے پر کچھ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ اقدامات وقتی ہیں اور طویل المدتی حل فراہم نہیں کرتے۔
پاکستان پر ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق اگر قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ عوام کو ایندھن کے محتاط استعمال کی ہدایت بھی دی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں
کراچی کا نوجوان ایران میں اسرائیلی میزائل حملے میں شہید، میت وطن لانے کا مطالبہ











