بچت کے لیے ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا، وزیراعظم ٹرمپ کی نئی دھمکی، آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس اور ایران کے پل تباہ کرنے کا اعلان ایران میں جوش و جذبہ عروج پر، لاکھوں نہیں کروڑوں افراد فوج میں جانے کو تیار دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد راولپنڈی میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

لاہور کے تاجروں نے دکانیں جلد کھولنے اور رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا

Lahore traders reject early closing decision

لاہور کے تاجروں کا حکومتی فیصلے کو رد

لاہور کے تاجروں نے دکانوں کے اوقات کار سے متعلق حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ شیڈول پر عمل نہیں کریں گے۔ اس فیصلے کے بعد شہر کی متعدد بڑی مارکیٹیں صبح کے اوقات میں بند رہیں، جس سے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کاروباری اوقات پر اختلاف کیوں؟

حکومت کی جانب سے توانائی بچت کے پیش نظر بازار صبح کھولنے اور رات 8 بجے بند کرنے کی پالیسی متعارف کرائی گئی تھی۔ تاہم تاجروں کا مؤقف ہے کہ اس شیڈول سے کاروبار متاثر ہوگا اور گاہکوں کی تعداد میں کمی آئے گی، خاص طور پر شام کے اوقات میں جب خریداری کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔

دیگر شہروں میں صورتحال مختلف

لاہور کے برعکس پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں میں بازار معمول کے مطابق صبح کھل گئے اور بعض علاقوں میں حکومتی فیصلے پر عمل بھی کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب کوئٹہ میں تاجروں کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ افراد نے نئی پالیسی اپنائی جبکہ کچھ نے نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

حکومت اور تاجر برادری میں کشمکش

یہ صورتحال حکومت اور تاجر برادری کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک طرف حکومت توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب تاجر اپنے کاروبار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

ماہرین کے مطابق اس معاملے کا حل باہمی مشاورت سے ہی ممکن ہے تاکہ ایسا متوازن شیڈول بنایا جا سکے جو نہ صرف توانائی کی بچت کرے بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر نہ کرے۔

مزید پڑھیں
کامیاب سفارتکاری پر شہباز شریف اور عاصم منیر کا شکریہ، عباس عراقچی

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین