زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے
ایران کے سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر کمال خرازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں۔ وہ حالیہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد اسپتال میں زیر علاج تھے اور کوما کی حالت میں تھے، تاہم جانبر نہ ہو سکے۔
حملے میں اہلیہ بھی شہید
رپورٹس کے مطابق تہران میں ان کے گھر پر امریکا و اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ان کی اہلیہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی تھیں جبکہ کمال خرازی کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ایران کیلئے بڑا سفارتی نقصان
ایرانی ذرائع نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمال خرازی کی موت سے ایران کی سفارتکاری میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ وہ ملک کی اعلیٰ قیادت کے اہم مشیر اور تجربہ کار سفارتکار تھے۔
اہم عہدوں پر خدمات
کمال خرازی ایران کی اسٹریٹیجک کونسل برائے خارجہ امور کے سربراہ تھے اور اعلیٰ قیادت کو خارجہ پالیسی پر مشورے دیتے رہے۔ وہ مجتبیٰ خامنہ ای اور علی خامنہ ای کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔
بطور وزیر خارجہ کردار
انہوں نے 1997 سے 2005 تک محمد خاتمی کے دور میں ایران کے وزیر خارجہ کے طور پر خدمات انجام دیں اور اس دوران عالمی سطح پر ایران کی سفارتی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان سے متعلق سفارتی رابطے
میڈیا رپورٹس کے مطابق کمال خرازی پاکستان سے متعلق سفارتی روابط کی نگرانی بھی کر رہے تھے، جس کے باعث بعض تجزیہ کار اس حملے کو جاری سفارتی کوششوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
علمی و فکری خدمات
ڈاکٹر کمال خرازی نہ صرف ایک ماہر سفارتکار تھے بلکہ تعلیم اور تحقیق کے میدان میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے اور متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔
مزید پڑھیں
پاکستان گڈز الائنس کا ردعمل، پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر کرایوں میں60 فیصد اضافہ










