کراچی میں ڈکیتی کی واردات، ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شہری زخمی، کروڑوں روپے لوٹ لیے امریکی نائب صدر: معاہدے کیلئے تیار ہیں، ایران کو جوہری افزودگی کی صلاحیت کم کرنا ہوگی عمران خان کے بلڈ پریشر کے علاج کیلئے لندن سے ڈاکٹر بلانے کا انکشاف: طلال چوہدری این سی سی آئی اے راولپنڈی سرکل کی کارروائی، بین الاقوامی سائبر فراڈ نیٹ ورک پکڑا گیا
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

عمران خان کے بلڈ پریشر کے علاج کیلئے لندن سے ڈاکٹر بلانے کا انکشاف: طلال چوہدری

London Doctor Called for Imran Khan’s Treatment

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی علاج سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں لندن سے ڈاکٹر بلائے جانے کی اطلاعات نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں توجہ حاصل کرلی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق عمران خان کے بلڈ پریشر اور دیگر طبی مسائل کے معائنے کیلئے لندن سے ڈاکٹر فرقاد عالمگیر کو طلب کیا گیا تھا۔ تاہم حکومتی مؤقف میں اس حوالے سے مختلف وضاحت بھی سامنے آئی ہے۔

عمران خان کے بلڈ پریشر کے مسئلے کی تفصیلات

رپورٹس کے مطابق اڈیالہ جیل میں عمران خان کے بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ کے باعث طبی معائنہ کیا گیا۔ ایک میڈیکل رپورٹ کے مطابق 10 اگست کو ان کا بلڈ پریشر 140/80 ریکارڈ کیا گیا جبکہ اس سے قبل یکم اگست کو یہ 140/100 تھا۔ طبی معائنے کے دوران ان کی صحت کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

لندن سے ڈاکٹر فرقاد عالمگیر کو طلب کرنے کی رپورٹ

دستیاب رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر فرقاد عالمگیر، جو لندن سے آئے تھے، عمران خان کے طبی معائنے کیلئے تشکیل دیے گئے چار رکنی میڈیکل بورڈ کا حصہ تھے۔ میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر عارف خان، ڈاکٹر اختر علی بندیشہ اور ڈاکٹر علی عارف بھی شامل تھے۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر فرقاد عالمگیر نے عمران خان کی بلڈ پریشر کی دوا میں تبدیلی کی تھی۔

بلڈ پریشر اور ذہنی دباؤ کم کرنے کیلئے واک کی سفارش

میڈیکل رپورٹ کے مطابق عمران خان کے اینگزائٹی لیول کو ’تھری پلس‘ قرار دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں بلڈ پریشر اور ذہنی دباؤ کو کنٹرول کرنے کیلئے روزانہ ایک گھنٹے کی واک کی سفارش کی گئی۔ اس کے علاوہ خاندان سے ملاقات، اخبارات، ٹی وی اور کتابوں تک رسائی دینے کی سفارشات بھی شامل تھیں۔

حکومت کی جانب سے لندن سے ڈاکٹر بلانے کی وضاحت

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے عمران خان کے علاج سے متعلق لندن سے ڈاکٹر بلانے کے معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طبی اقدامات قانونی طریقہ کار کے مطابق کیے گئے۔ دوسری جانب بعض رپورٹس میں ان کے بیان کو اس طور پر بھی بیان کیا گیا کہ کسی ڈاکٹر کو خصوصی طور پر لندن سے صرف عمران خان کے علاج کیلئے بلانے کی بات درست نہیں۔

عمران خان کے علاج پر سیاسی بحث جاری

عمران خان کے طبی علاج اور انہیں ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دینے کا معاملہ حالیہ سیاسی مذاکرات میں بھی زیر بحث رہا ہے۔ ایک جانب حکومت طبی معائنے اور علاج کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا مؤقف پیش کر رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مزید طبی سہولیات اور ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ اس معاملے پر سیاسی اختلاف کے ساتھ ساتھ عمران خان کی طبی رپورٹس بھی اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔
مزید پڑھیں
امریکی نائب صدر: معاہدے کیلئے تیار ہیں، ایران کو جوہری افزودگی کی صلاحیت کم کرنا ہوگی

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین