آئین، 18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے دفاع کا وقت آ گیا ہے، مولانا فضل الرحمان پاکستان کی مالی ذمہ داری مکمل، یو اے ای کے ڈپازٹس واپس کر دیے امریکا کا بڑا قدم، آبنائے ہرمز میں ایران کی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ حکومت سندھ کا یکم مئی کو عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

آئین، 18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے دفاع کا وقت آ گیا ہے، مولانا فضل الرحمان

Fazlur Rehman talking about constitution and 18th amendment in Pakistan

 مولانا فضل الرحمان

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں آئین اور صوبائی خودمختاری ایک بار پھر اہم موضوع بن چکے ہیں۔ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے واضح الفاظ میں کہا ہے۔ کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آئین، 18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کا ہر صورت دفاع کیا جائے۔

آئین اور صوبائی حقوق پر زور

ڈیرہ غازی خان میں سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم کے اہلخانہ سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت آئین اور صوبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئین کے مطابق صوبائی خودمختاری ایک بنیادی حق ہے۔ جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

احتجاج ملتوی، منسوخ نہیں

مولانا فضل الرحمان نے مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف جاری احتجاج کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے۔ کہا کہ احتجاج کو منسوخ نہیں کیا گیا۔ بلکہ وقتی طور پر ملتوی کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں زیادہ ضروری ہے۔ کہ آئینی معاملات اور 18ویں ترمیم کے تحفظ پر توجہ دی جائے۔

پارلیمنٹ کے کردار پر تنقید

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف آئین کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے۔ جبکہ دوسری جانب پارلیمنٹ کو محض ایک “ربڑ اسٹیمپ” بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو بااختیار بنانا جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے، اور اس کے بغیر آئینی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔

18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر خدشات

مولانا فضل الرحمان نے 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو صوبوں کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے۔ کہا کہ ان میں تبدیلی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ حقوق متاثر ہوئے تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ صوبوں کو تقسیم کرنے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

امن و امان اور آئینی حدود

انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کا قیام صوبائی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی صوبے کو ضرورت ہو تو وہ آئین کے تحت وفاق سے مدد طلب کر سکتا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق اس بنیاد پر آئینی ترامیم کی بات کرنا دراصل سیاسی دباؤ یا بلیک میلنگ کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیں
حکومت سندھ کا یکم مئی کو عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین