اہم مشاورتی اجلاس
اسلام آباد میں ایوانِ صدر میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کو درپیش معاشی، توانائی اور سکیورٹی چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت صدر آصف علی زرداری نے کی جبکہ وزیر اعظم اور اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
عوام کو ریلیف دینے پر زور
اجلاس میں مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر عوام، خصوصاً کمزور طبقات کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی تیل و گیس کی سپلائی برقرار رکھنے اور ایندھن کی دستیابی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز مسترد
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ہفتہ اور اتوار کو اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز زیر غور آئی، جس کا مقصد تیل کی کھپت میں کمی لانا تھا۔ تاہم صوبوں کی مخالفت کے باعث اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا کیونکہ اس سے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں اور برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔
کفایت شعاری اقدامات
حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کرنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز بھی مسترد کر دی گئیں تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
تیل کی کھپت میں اضافہ
اجلاس میں انکشاف ہوا کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود ملک میں تیل کی کھپت میں 25 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ اس پر وزارت اطلاعات کو عوامی آگاہی مہم چلانے کی ہدایت دی گئی تاکہ لوگ اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی لائیں۔
متبادل ذرائع کے استعمال کی ہدایت
صدر مملکت نے عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ اور شیئرڈ موبیلٹی کے استعمال کی ترغیب دینے پر زور دیا تاکہ ایندھن کی بچت ممکن ہو سکے۔
قومی و عالمی صورتحال کا جائزہ
اجلاس میں خطے کی صورتحال کے پاکستان کی معیشت اور فوڈ سکیورٹی پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکا کو یقین دلایا گیا کہ ملک میں ایندھن کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کی ضروریات کے لیے بھی انتظامات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں
پی سی بی کا بڑا ایکشن، نسیم شاہ پر متنازع ٹوئٹ پر 2 کروڑ روپے جرمانہ










