ایک نیا دور یا روایتی فن کا خاتمہ؟
فلم انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت (AI) کا بڑھتا ہوا استعمال ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کر رہا ہے، جہاں روایتی فلم سازی کے طریقے تیزی سے جدید ٹیکنالوجی میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ اب کیمرہ ورک، ہدایت کاری، ایڈیٹنگ اور موسیقی تک میں اے آئی اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس سے فلم سازی کا پورا انداز بدل رہا ہے۔
ڈیجیٹل اداکار اور نئی فلم سازی
رپورٹس کے مطابق کئی پروڈکشن نیٹ ورکس اب مکمل طور پر ڈیجیٹل اداکار بنانے اور اے آئی پر مبنی کہانیاں تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ ان منصوبوں میں مذہبی اور تاریخی موضوعات جیسے رامائن اور مہابھارت کو بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پیش کیا جا رہا ہے۔
اسٹریمنگ اور سنیما انڈسٹری پر دباؤ
فلمی ماہرین کے مطابق آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کی مقبولیت نے سنیما گھروں کی آمدن اور ناظرین کی تعداد میں نمایاں کمی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پروڈکشن کمپنیاں کم وقت اور کم لاگت میں زیادہ مواد بنانے کے لیے اے آئی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
اے آئی سے فلموں میں بڑی تبدیلیاں
مصنوعی ذہانت کے ذریعے اب نہ صرف مکمل فلمیں تیار کی جا رہی ہیں بلکہ پرانی فلموں کے اختتام کو تبدیل کیا جا سکتا ہے خودکار ڈبنگ مختلف زبانوں میں ممکن ہو گئی ہے کرداروں کے ہونٹوں کی حرکت کو بھی زبان کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے اس سے وقت اور لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن ناظرین کی رائے اس پر مختلف ہے۔
تنازع اور تنقید
ایک مثال کے طور پر فلم “رانجھنا” کے اے آئی کے ذریعے تبدیل شدہ اختتام پر اداکار دھنوش نے تنقید کی اور کہا کہ اس سے اصل کہانی کی روح متاثر ہوئی ہے۔ اسی طرح کچھ ہدایت کاروں کا خیال ہے کہ اے آئی کا بڑھتا ہوا استعمال تخلیقی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے۔
کیا روایتی فلم سازی ختم ہو جائے گی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی فلم سازی کو مکمل طور پر ختم نہیں کرے گی بلکہ اسے تبدیل کرے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان کی تخلیقی سوچ اور جذباتی کہانی بیان کرنے کی صلاحیت اس ٹیکنالوجی کے ساتھ برقرار رہ سکے گی یا نہیں۔
مزید پڑھیں
نوزائیدہ بچوں میں ایم پاکس کا پھیلاؤ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی










