جرمنی میں نرس کو 10 مریضوں کے قتل پر عمر قید کی سزا
جرمنی میں ایک پالی ایٹیو کیئر نرس کو 10 مریضوں کو جان بوجھ کر جان لیوا ادویات دینے اور 27 دیگر مریضوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ واقعہ صحت کے شعبے میں مریضوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
واقعہ کس اسپتال میں پیش آیا؟
یہ خوفناک واقعات مغربی جرمنی کے شہر ویورسیلن (Wuerselen) کے ایک اسپتال میں دسمبر 2023 سے مئی 2024 کے دوران پیش آئے۔ استغاثہ کے مطابق، نرس نے زیادہ تر بزرگ اور کمزور مریضوں کو ایسی دوائیں دیں۔ جن کی مقدار عام طور پر علاج کے لیے تجویز کردہ مقدار سے کئی گنا زیادہ تھی۔
نرس دوا کی زیادہ مقدار کیوں دیتا تھا؟
عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق نرس کا مقصد رات کی ڈیوٹی کے دوران کام کا بوجھ کم کرنا تھا۔ وہ مریضوں کو بے ہوش یا غیر فعال کرنے کے لیے سکون آور اور درد کم کرنے والی ادویات کی غیر معمولی مقدار انجیکشن کی صورت میں دیتا تھا- تاکہ اسے کم محنت کرنا پڑے۔
نفسیاتی رویہ اور مریضوں سے چڑچڑاپن
تحقیقات کے مطابق، نرس وہ مریض جنہیں مسلسل دیکھ بھال اور توجہ درکار ہوتی تھی۔ ان سے چڑچڑاپن کا رویہ اختیار کرتا تھا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اسے زندگی اور موت کا کنٹرول رکھنے کا غیر صحت مند احساس پیدا ہو چکا تھا۔ جو اس کے خطرناک فیصلوں کی بنیادی وجہ مانا جا رہا ہے۔
مزید متاثرین کا خدشہ
۔ حکام کا کہنا ہے۔ کہ ممکنہ طور پر مزید مریض بھی اسی نرس کی وجہ سے جان سے گئے ہوں۔ اسی لیے کئی قبروں کی قبر کشائی کا عمل شروع کیا گیا ہے تاکہ ایسے مریضوں کی موت کے حقیقی اسباب معلوم کیے جا سکیں جن کی اموات پہلے عام تصور کی گئی تھیں۔
عدالتی فیصلہ اور قانونی صورتحال
نرس کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے، تاہم قانون کے مطابق اسے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔ اس فیصلے نے جرمنی بھر میں اسپتالوں میں مریضوں کی نگرانی اور نرسنگ اسٹاف کی اخلاقی تربیت کے نظام پر نظرثانی کی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں











