ایران جنگ میں امریکا کو بڑا نقصان، فضائی فیول ٹینکر طیارہ تباہ وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے اہم ملاقات، آزمائشی حالات میں مکمل یکجہتی کا اعادہ فجیرا سے پاک نیوی کی سکیورٹی میں 2 جہاز 10 سے 12 کروڑ لیٹر تیل لے کر کراچی پہنچ گئے عالمی منڈی میں خام تیل 10 فیصد مہنگا، برینٹ کروڈ 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

اے آئی انڈسٹری میں سرمایہ کاری کا بلبلہ خطرناک حد تک بڑھ گیا

Artificial Intelligence investment bubble risks global market crash in 2025

مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کی قدر میں غیر معمولی اضافہ

گزشتہ دو برسوں میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی مغربی معلوماتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بازاری قدر کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باعث تیزی سے بڑھ گئی ہے۔ اکتوبر 2024 میں چیٹ جی بی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کی قدر 157 ارب ڈالر تھی جو صرف ایک سال میں بڑھ کر 500 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

این ویڈیا دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی

مصنوعی ذہانت سے وابستہ ٹیکنالوجی تیار کرنے والی امریکی کمپنی این ویڈیا اب بازاری قدر کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن چکی ہے۔ جس کی موجودہ مالیت 4.459 کھرب ڈالر ہے۔ یہ کمپنی تصویری پراسیسنگ کے آلات اور دیگر مصنوعی ذہانت پر مبنی مصنوعات تیار کرتی ہے۔ جو مختلف کمپیوٹر نظاموں اور موبائل ایپلی کیشنز میں استعمال ہوتی ہیں۔

بڑی کمپنیوں کی منافع نہ دینے پر تشویش

اگرچہ اس شعبے میں سرمایہ کاری بے حد بڑھ چکی ہے۔ مگر اوپن اے آئی سمیت کئی بڑی مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں تاحال منافع بخش ثابت نہیں ہو سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے۔ کہ اگر ان اداروں نے جلد منافع نہ کمایا تو سرمایہ کار اپنا سرمایہ واپس نکالنا شروع کر دیں گے۔ جس سے بازار میں بڑی گراوٹ آسکتی ہے۔

ماہرین کا انتباہ: مصنوعی ذہانت کا بلبلہ پھٹ سکتا ہے

معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے۔ کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو سن 2000 کے ’’ڈاٹ کام بحران‘‘ کی طرح ایک اور عالمی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔
اس وقت بھی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں غیر حقیقی سرمایہ کاری نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اور اب مصنوعی ذہانت کی سرمایہ کاری کا بلبلہ بھی دنیا کی معیشت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
پیٹرولیم پر ٹیکس چھوٹ مسترد، 6 ارب ڈالر کا منصوبہ خطرے میں

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین