اسرائیل میں 90 فیصد ووٹ گن لیے گئے، نیتن یاہو کے اتحاد کو اکثریت نہ مل سکی ملتان میں گھر میں آتشزدگی، خاتون اور 2 بیٹیاں جھلس کر جاں بحق
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ایرانی جزیرہ قشم امریکی حملے کی زد میں آگیا

us-attack-iran-qeshm-island.webp

ایران کے اہم جزیرے قشم پر امریکی فوجی حملے کی اطلاعات سامنے آگئی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے جزیرے پر متعدد دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔ امریکی حکام نے اس کارروائی کو دفاعی نوعیت کی محدود فوجی کارروائی قرار دیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کی تھی، تاہم قشم پر حملے کی اطلاعات نے خطے کی صورتِ حال کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کردیے ہیں۔

ایرانی جزیرے قشم پر متعدد دھماکے

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے IRNA کے مطابق جزیرہ قشم پر یکے بعد دیگرے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ عینی شاہدین کے حوالے سے طیاروں کی پروازوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ ایران کے ساحلی شہر بندر لنگہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی خبریں موصول ہوئیں۔

بعد ازاں امریکی حکام کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی افواج نے قشم جزیرے پر حملہ کیا تھا۔ تاہم، حملے سے ہونے والے نقصانات اور ممکنہ جانی نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔

امریکا نے حملے کو دفاعی کارروائی قرار دے دیا

امریکی حکام کے مطابق قشم جزیرے پر کارروائی کا مقصد امریکی اثاثوں کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنا تھا۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایرانی افواج کی جانب سے امریکی اثاثوں کے خلاف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال سے متعلق خطرات کے تناظر میں یہ کارروائی کی گئی۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملے محدود نوعیت کے تھے اور انہیں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان قرار نہیں دیا گیا۔ تاہم، امریکی حکام کے بیانات اور خطے میں جاری فوجی سرگرمیوں کے درمیان صورتِ حال بدستور حساس ہے۔

آبنائے ہرمز کے قریب قشم جزیرہ کیوں اہم ہے؟

جزیرہ قشم ایران کے جنوبی ساحل کے قریب آبنائے ہرمز میں واقع ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

آبنائے ہرمز میں فوجی کشیدگی یا تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتی ہے۔ اسی وجہ سے قشم جزیرے اور اس کے آس پاس ہونے والی فوجی سرگرمیوں پر عالمی سطح پر توجہ دی جارہی ہے۔

امریکی حملے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

قشم جزیرے پر امریکی حملے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرمایہ کاروں میں خطے میں کشیدگی بڑھنے اور تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوئے۔

اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی امید کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔ تاہم، نئی فوجی کارروائی کی اطلاعات نے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتِ حال کو دوبارہ نمایاں کردیا۔

ایران امریکا کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ

قشم جزیرے پر حملے کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ امریکی حکام نے کارروائی کو محدود قرار دیا ہے، تاہم اس کے ممکنہ اثرات کا انحصار ایران کے ردعمل اور آئندہ فوجی و سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔

تاحال حملے سے ہونے والے جانی نقصان اور املاک کی تباہی کے حوالے سے مصدقہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے بھی فوری طور پر تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ صورتِ حال میں مزید پیش رفت خطے کے امن، عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں
اڈیالہ جیل: بیرسٹر سلمان صفدر کی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کرادی گئی

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

مقبول پوسٹس

اشتہار

بلیک فرائیڈے

سماجی اشتراک

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

:متعلقہ مضامین