مائیکروسافٹ نے اپنے طبی مصنوعی ذہانت کے نظام MAI-DxO کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں کے مقابلے میں نمایاں بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق تحقیق کے دوران اس نظام نے انتہائی پیچیدہ طبی کیسز میں 83 فیصد درست تشخیص کی، جبکہ دستیاب طبی حوالہ جاتی مواد استعمال کرنے والے معالجین کی درستگی کی شرح 36 فیصد رہی۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے Science میں شائع ہوئی ہے۔ تاہم، یہ نتائج مخصوص آزمائشی کیسز پر مبنی ہیں اور انہیں حقیقی اسپتالوں میں ہر قسم کی بیماری کی تشخیص کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔
مائیکروسافٹ کے طبی اے آئی نظام MAI-DxO کی خاصیت
مائیکروسافٹ کا MAI-DxO ایک ایسا اے آئی تشخیصی نظام ہے جسے پیچیدہ طبی معاملات کو مرحلہ وار سمجھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ صرف مریض کی علامات دیکھ کر فوری جواب دینے کے بجائے مزید معلومات حاصل کرنے، ممکنہ تشخیص پر غور کرنے اور مناسب طبی ٹیسٹ منتخب کرنے کے عمل کی نقل کرتا ہے۔
اس نظام میں متعدد اے آئی ایجنٹس کو مربوط کیا جاتا ہے، جو فرضی طبی ماہرین کے پینل کی طرح مختلف تشخیصی امکانات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس طریقے سے نظام نئی معلومات سامنے آنے پر اپنی رائے پر نظرثانی کرسکتا ہے اور ممکنہ بیماری کی شناخت کے لیے اگلے اقدامات تجویز کرتا ہے۔
پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں 83 فیصد درستگی
مائیکروسافٹ کے مطابق MAI-DxO کو New England Journal of Medicine میں شائع ہونے والے 304 پیچیدہ طبی کیسز کی بنیاد پر جانچا گیا۔ ان کیسز میں ایسی صورتِ حال شامل تھی جہاں درست تشخیص تک پہنچنے کے لیے تفصیلی طبی معلومات، مختلف امکانات پر غور اور متعدد تشخیصی مراحل کی ضرورت ہوتی ہے۔
کمپنی کی رپورٹ کے مطابق اے آئی نظام نے ان پیچیدہ کیسز میں 83 فیصد درست تشخیص کی۔ اس کے مقابلے میں طبی حوالہ جاتی مواد استعمال کرنے والے معالجین کی درستگی 36 فیصد اور بغیر بیرونی حوالہ جاتی مواد کے 22 فیصد رہی۔ یہ نتائج اے آئی کی ممکنہ صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن ان کا اطلاق تمام طبی حالات یا حقیقی مریضوں پر براہِ راست نہیں کیا جاسکتا۔
ایمرجنسی کیسز میں بھی اے آئی کی کارکردگی کا جائزہ
تحقیق میں صرف انتہائی پیچیدہ بیماریوں کے کیسز ہی نہیں بلکہ امریکی ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے مریضوں سے متعلق ڈیٹا بھی استعمال کیا گیا۔ مائیکروسافٹ کے مطابق اس ڈیٹا پر MAI-DxO نے 80 فیصد درستگی حاصل کی، جبکہ موازنے میں شامل ڈاکٹروں کی درستگی 47 فیصد رہی۔
اس آزمائش کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ اے آئی نظام محدود ابتدائی معلومات سے تشخیص کا عمل کیسے آگے بڑھاتا ہے، کون سے سوالات پوچھتا ہے اور کن ٹیسٹوں کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ تاہم، تحقیق میں حاصل ہونے والی کامیابی کو معمول کے طبی ماحول میں کامیابی کے برابر قرار دینے سے پہلے مزید جانچ ضروری ہے۔
کم خرچ تشخیص اور طبی ٹیسٹوں کے بہتر انتخاب کی کوشش
مائیکروسافٹ کے مطابق MAI-DxO کو اس طرح بھی جانچا گیا کہ وہ درست تشخیص کے لیے کتنے اور کس نوعیت کے ٹیسٹ تجویز کرتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ نظام بعض آزمائشی صورتوں میں کم لاگت کے ساتھ مؤثر تشخیص تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔
اگر مستقبل میں حقیقی طبی ماحول میں بھی ایسے نتائج سامنے آتے ہیں تو یہ ٹیکنالوجی غیر ضروری ٹیسٹ کم کرنے، طبی وسائل بہتر انداز میں استعمال کرنے اور تشخیص کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم، لاگت میں کمی اور مریضوں کے نتائج میں بہتری کے دعووں کی تصدیق کے لیے عملی مطالعات درکار ہوں گے۔
حقیقی مریضوں پر آزمائش اور ڈاکٹروں کا کردار
مائیکروسافٹ نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تشخیصی صلاحیت جانچنے کے لیے حقیقی طبی ماحول میں مزید تحقیق اہم ہے۔ کمپنی کے مطابق بوسٹن کے طبی مرکز Beth Israel Deaconess Medical Center کے ساتھ مل کر نظام کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کا منصوبہ ہے، تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ اسپتالوں کے عملی نظام میں کس حد تک مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
طبی اے آئی کے ایسے نظام مستقبل میں ڈاکٹروں کو پیچیدہ کیسز سمجھنے اور ممکنہ تشخیص پر غور کرنے میں معاونت فراہم کرسکتے ہیں، لیکن انہیں فی الحال مستند طبی معائنے کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ حتمی تشخیص اور علاج کے فیصلے مریض کی مکمل طبی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے مستند طبی ماہرین ہی کو کرنے چاہییں۔
مزید پڑھیں
منکی پاکس نے کراچی میں ایک اور جان لے لی، ڈیڑھ سالہ بچہ جاں بحق





