مدینہ شہر اور مشرقی علاقوں کی طرف داغے گئے ڈرونز تباہ کردیے گئے: سعودی اتحادی افواج ڈاؤ یونیورسٹی کراچی کے 27 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ثابت، تنخواہیں واپس لینے کا حکم طالبہ کی خودکشی کیس کا ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا پنجاب خواتین کے تحفظ کے حوالے سے محفوظ صوبہ بن چکا ہے: مریم نواز
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

طالبہ کی خودکشی کیس کا ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا

Suspect in Laiba Ijaz Case Killed in Islamabad

اسلام آباد میں امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند طالبہ لائبہ اعجاز کے مبینہ خودکشی کیس کا مرکزی ملزم محمد نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق، واقعہ تھانہ رمنا کی حدود میں اس وقت پیش آیا جب پولیس ٹیم ملزم کو اس کی نشاندہی پر مزید شواہد اور ریکوری کے لیے لے جارہی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے ملزم کو چھڑوانے کے لیے فائرنگ کی، جس کے دوران نعمان زخمی ہوگیا اور اسپتال میں دم توڑ گیا۔

پولیس ٹیم پر فائرنگ، ملزم نعمان ہلاک

اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق، ملزم محمد نعمان کو مزید ریکوری کے لیے لے جایا جارہا تھا کہ راستے میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔ پولیس کے مطابق، حملہ آوروں کا مقصد زیرِ حراست ملزم کو چھڑوانا تھا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے زخمی ہوا۔ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ پولیس اہلکار بلٹ پروف جیکٹس اور حفاظتی اقدامات کی وجہ سے محفوظ رہے۔

لائبہ اعجاز کے ساتھ مبینہ ویزا فراڈ کا معاملہ

لائبہ اعجاز انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی طالبہ اور گولڈ میڈلسٹ تھیں۔ ان کے اہلِ خانہ کے مطابق، وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا جانا چاہتی تھیں اور انہیں امریکی یونیورسٹی میں داخلے اور اسکالرشپ کا یقین دلایا گیا تھا۔

پولیس اور ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق، ملزم اور اس کے مبینہ ساتھیوں نے امریکی ویزا، یونیورسٹی میں داخلے اور اسکالرشپ کے نام پر لائبہ کے خاندان سے رقم حاصل کی۔ فراہم کردہ داخلہ خطوط، اسکالرشپ کے کاغذات اور فیس کی رسیدوں کو مبینہ طور پر جعلی قرار دیا گیا۔

خاندان سے لاکھوں روپے وصول کرنے کا الزام

مقدمے اور تحقیقاتی حکام کے مطابق، لائبہ کے خاندان سے مبینہ طور پر مجموعی طور پر 93 لاکھ روپے لیے گئے۔ اہلِ خانہ نے بتایا کہ انہوں نے بیٹی کے تعلیمی مستقبل کے لیے مالی قربانیاں دیں، جن میں والد کی جانب سے پلاٹ فروخت کرنا اور والدہ کے زیورات گروی رکھنا شامل تھا۔

جب لائبہ نے فراہم کردہ دستاویزات کی تصدیق کروائی تو مبینہ طور پر ان کے جعلی ہونے کا انکشاف ہوا۔ اس کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں اور 9 اکتوبر 2026 کو ان کی موت کا واقعہ پیش آیا۔ پولیس اس معاملے کو مبینہ خودکشی کے طور پر بیان کرتی رہی ہے، جبکہ فراڈ کے الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ تحقیقات اور عدالتی کارروائی سے ہوگا۔

دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن

اسلام آباد پولیس کے مطابق، فائرنگ کے بعد فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

پولیس اور ایف آئی اے لائبہ کے ساتھ مبینہ فراڈ کے تمام پہلوؤں کی بھی تحقیقات کررہے ہیں۔ اس میں رقم کی وصولی، جعلی دستاویزات کی تیاری اور دیگر ممکنہ متاثرین سے متعلق معلومات شامل ہیں۔

طالبہ کے کیس میں مزید تحقیقات جاری

محمد نعمان کی ہلاکت کے بعد کیس میں مزید تحقیقات اہم ہوگئی ہیں، خصوصاً مبینہ فراڈ میں شامل دیگر افراد اور خاندان سے حاصل کی گئی رقم کی بازیابی کے حوالے سے۔ پولیس کے مطابق، ملزم کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

لائبہ اعجاز کا واقعہ بیرونِ ملک تعلیم اور اسکالرشپ کے نام پر فراڈ سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ایسے معاملات میں داخلے اور ویزا کی دستاویزات کی متعلقہ اداروں سے تصدیق کرنا اور مشکوک ایجنٹوں کے خلاف شکایت درج کروانا اہم ہے۔
مزید پڑھیں
ڈاؤ یونیورسٹی کراچی کے 27 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ثابت، تنخواہیں واپس لینے کا حکم

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین