سعودی اتحادی افواج نے اعلان کیا ہے کہ مدینہ منورہ اور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں کی جانب داغے گئے چار ڈرونز کو روک کر تباہ\ کردیا گیا ہے۔ 21 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ ڈرونز کو فضائی دفاعی کارروائی کے دوران تباہ کیا گیا۔ ایک الگ بیان میں مشرقی صوبے کی جانب آنے والے مزید ایک ڈرون کو بھی تباہ کرنے کی اطلاع دی گئی۔
مدینہ منورہ اور مشرقی علاقوں میں فضائی دفاعی کارروائی
سعودی اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق، مدینہ منورہ اور مشرقی صوبے کی جانب آنے والے ڈرونز کو فضائی حدود میں روک کر تباہ کیا گیا۔ یہ کارروائی سعودی عرب کے مختلف علاقوں کی فضائی نگرانی اور دفاعی اقدامات کے تحت کی گئی۔
حکام نے ڈرونز کے روانہ ہونے کے مقامات یا ان کے ممکنہ اہداف کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایک اور ڈرون بھی تباہ کرنے کا اعلان
اتحادی افواج نے ایک الگ بیان میں بتایا کہ مشرقی صوبے کی جانب بڑھنے والے ایک مزید ڈرون کو بھی روک کر تباہ کردیا گیا ہے۔ اس طرح تازہ اعلان میں مجموعی طور پر پانچ ڈرونز تباہ کرنے کی اطلاع دی گئی۔
تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان ڈرونز کو کس مقام سے روانہ کیا گیا تھا یا آیا ان واقعات میں کسی تنصیب کو نقصان پہنچا۔
سعودی عرب میں فضائی حملوں کے خدشات
سعودی عرب کو حالیہ دنوں میں میزائلوں اور ڈرونز سے متعلق متعدد خطرات کا سامنا رہا ہے۔ اس سے قبل اتحادی افواج نے مدینہ منورہ کے علاقے میں ایک کروز میزائل اور مشرقی صوبے میں ڈرون تباہ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
یہ واقعات خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، تاہم تازہ ڈرون حملوں کے ذمہ داروں کے بارے میں حکام نے کوئی نئی تفصیل جاری نہیں کی۔
جانی و مالی نقصان سے متعلق تفصیلات جاری نہیں
تازہ اعلان میں سعودی حکام نے ڈرونز کو تباہ کرنے کی تصدیق کی، لیکن جانی نقصان، املاک کو پہنچنے والے نقصان یا ملبہ گرنے سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
حکام کی جانب سے ڈرونز کے ممکنہ اہداف اور ان کی روانگی کے مقامات کی وضاحت بھی سامنے نہیں آئی۔ مزید معلومات سرکاری بیانات کے بعد ہی واضح ہوسکیں گی۔
سعودی فضائی دفاعی نظام کی کارروائیاں جاری
سعودی اتحادی افواج کی جانب سے ڈرونز کو روکنے اور تباہ کرنے کے اعلانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں فوجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ فضائی دفاعی نظام کا مقصد ملک کی فضائی حدود اور اہم تنصیبات کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
تازہ کارروائی کے بعد حکام کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے، خصوصاً ڈرونز کے ممکنہ ذرائع، اہداف اور واقعات کے مجموعی اثرات کے حوالے سے۔
مزید پڑھیں
پنجاب خواتین کے تحفظ کے حوالے سے محفوظ صوبہ بن چکا ہے: مریم نواز











