لڑکی کو غلط طریقے سے چھونے کے الزام میں روبوٹ پولیس نے تحویل میں لے لیا لاہور میں ٹریلر کی گاڑی کو ٹکر، میاں بیوی اور بیٹے سمیت 3 افراد جاں بحق کراچی: اعجاز جکھرانی کے بھائی کے بنگلے پر چھاپہ، ایک کلو سے زائد آئس اور کوکین برآمد مراد سعید افغانستان میں بیٹھ کر کے پی حکومت کنٹرول کر رہے ہیں: رانا ثنا اللہ
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

مراد سعید افغانستان میں بیٹھ کر کے پی حکومت کنٹرول کر رہے ہیں: رانا ثنا اللہ

Rana Sanaullah's Claims About Murad Saeed

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما مراد سعید افغانستان میں موجود ہیں اور وہیں سے خیبرپختونخوا حکومت کے معاملات کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مراد سعید نے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔ رانا ثنا اللہ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

رانا ثنا اللہ کا مراد سعید سے متعلق اہم دعویٰ

رانا ثنا اللہ نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق مراد سعید اس وقت افغانستان میں موجود ہیں اور وہاں سے خیبرپختونخوا کے حکومتی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مراد سعید صوبے کی سیاسی حکمت عملی پر اثرانداز ہو رہے تھے۔

تاہم مراد سعید کے افغانستان میں موجود ہونے اور وہاں سے صوبائی حکومت کو کنٹرول کرنے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ان بیانات کو رانا ثنا اللہ کے الزامات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنانے میں مراد سعید کا کردار؟

رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ بنانے میں مراد سعید کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سہیل آفریدی کو پہلے سے جانتے بھی نہیں تھے۔

یہ بیان پی ٹی آئی کی قیادت اور صوبائی حکومت کی تشکیل سے متعلق سیاسی بحث کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ کے انتخاب میں مراد سعید کے کردار اور عمران خان سے متعلق بیان کی تصدیق کے لیے متعلقہ شواہد یا دیگر فریقوں کا مؤقف بھی ضروری ہے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

رانا ثنا اللہ نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی اور مراد سعید کو بھی قرار دیا۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے نیک نیتی سے مذاکرات کیے اور پی ٹی آئی کے مطالبات پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی، لیکن ان دونوں رہنماؤں کے کردار نے معاملے کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے مذاکرات کی ناکامی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اصل معاملہ یہ ہے کہ مذاکرات کی میز سے کون پیچھے ہٹا اور اس کی وجہ کیا تھی۔ اس طرح دونوں فریق مذاکرات کی ناکامی کے بارے میں مختلف مؤقف پیش کر رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد سیاسی صورتحال

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کرگئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے اپنے اقدام کو صوبے میں امن و امان اور دہشت گردی سے متعلق خدشات سے جوڑا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے اسے سیاسی اقدام قرار دے کر چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس صورتحال میں مراد سعید کے مبینہ کردار سے متعلق بیانات بھی سیاسی بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی حقیقت جاننے کے لیے تصدیق شدہ شواہد اور متعلقہ فریقوں کے مؤقف کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

مراد سعید کے بارے میں حکومتی دعوے اور آئندہ پیش رفت

رانا ثنا اللہ کے بیان نے مراد سعید کے مبینہ مقام، صوبائی سیاست میں ان کے کردار اور مذاکرات کی ناکامی سے متعلق سوالات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان میں موجود رہ کر خیبرپختونخوا کے معاملات پر اثرانداز ہو رہے تھے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

آئندہ دنوں میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بیانات، ممکنہ مذاکرات اور گورنر راج سے متعلق آئینی کارروائی اس سیاسی معاملے کی سمت متعین کرنے میں اہم ہوسکتی ہے۔ اس دوران ضروری ہے کہ سیاسی الزامات اور ثابت شدہ حقائق میں فرق رکھا جائے۔
مزید پڑھیں

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین