لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے جعلی لون ایپس کے ذریعے شہریوں کو مبینہ طور پر بلیک میل کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 39 افراد کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار افراد میں 38 مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں لیپ ٹاپ اور موبائل فون بھی برآمد کیے گئے۔
جعلی لون ایپس کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی
NCCIA کے مطابق لاہور کی ایک نجی سوسائٹی میں جعلی لون ایپس کا نیٹ ورک چلایا جا رہا تھا۔ حکام نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو گرفتار کیا۔
39 ملزمان گرفتار
کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 39 ملزمان کو حراست میں لیا گیا، جن میں 38 مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
شہریوں کو بلیک میل کرنے کا الزام
تحقیقات کے مطابق ملزمان مختلف جعلی لون ایپس کے ذریعے قرض حاصل کرنے والے افراد کا ذاتی ڈیٹا، گیلری اور کانٹیکٹس تک رسائی حاصل کرتے تھے۔ الزام ہے کہ اس معلومات کو استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو بلیک میل کیا جاتا تھا، جبکہ بعض معاملات میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے جعلی تصاویر تیار کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
بڑی تعداد میں موبائل اور لیپ ٹاپ برآمد
NCCIA کی کارروائی کے دوران 40 لیپ ٹاپ اور 41 موبائل فونز قبضے میں لیے گئے۔ حکام کے مطابق یہ آلات ممکنہ طور پر نیٹ ورک کی سرگرمیوں اور ڈیجیٹل شواہد سے متعلق اہم معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔ برآمد ہونے والے ڈیجیٹل شواہد کو تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
جعلی لون ایپس سے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت
حکام کی جانب سے شہریوں کو غیر مصدقہ لون ایپس اور آن لائن قرض کی پیشکش کرنے والے پلیٹ فارمز سے محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے بھی خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی قرض ایپس اب ویب سائٹس، واٹس ایپ اور دیگر متبادل ذرائع کے ذریعے شہریوں تک پہنچ رہی ہیں
مزید پڑھیں
بیرسٹر گوہر: حکومت چھوڑیں گے نہ اسمبلی تحلیل کریں گے، لانگ مارچ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا








