پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات میں مہنگائی پر قابو پانے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے شرح سود سے متعلق پالیسی بھی زیرِ بحث ہے۔ حالیہ مذاکرات میں آئی ایم ایف کی جانب سے مہنگائی کو محدود رکھنے کے لیے مالیاتی پالیسی کو محتاط اور نسبتاً سخت رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔اکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موجودہ مذاکرات 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تیسرے جائزے سے متعلق ہیں۔ کامیاب پیش رفت کی صورت میں پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مجموعی رقم ملنے کی توقع ہے۔
آئی ایم ایف نے شرح سود بلند رکھنے کی تجویز کیوں دی؟
رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی کو محتاط رکھا جائے اور شرح سود میں فوری نرمی سے گریز کیا جائے۔ فنڈ کا خیال ہے کہ نسبتاً سخت مالیاتی پالیسی قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔دوسری جانب پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ موجودہ پالیسی ریٹ 11.5 فیصد ہے اور مہنگائی میں آئندہ مہینوں کے دوران بتدریج کمی کی توقع ہے۔ یوں شرح سود کے مستقبل کے راستے پر دونوں جانب کچھ اختلاف موجود ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کی تازہ صورتحال کیا ہے؟
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ستمبر 2026 میں صارف قیمتوں کی بنیاد پر مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے 11.1 فیصد کے مقابلے میں کم ہے۔ جولائی میں یہ شرح 9.2 فیصد تھی۔ ستمبر میں کمی کی بڑی وجہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار میں کمی کو قرار دیا گیا۔شہری علاقوں میں ستمبر کی مہنگائی 10.1 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 10.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگائی میں ماہانہ بنیاد پر کچھ کمی آئی ہے، تاہم قیمتوں کا مجموعی دباؤ اب بھی بلند سطح پر موجود ہے۔
شرح سود اور مہنگائی کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
شرح سود میں اضافہ یا اسے بلند سطح پر برقرار رکھنا قرض لینے کی لاگت بڑھاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کاروباری اداروں اور صارفین کی جانب سے قرض اور اخراجات میں کمی آسکتی ہے، جس سے معیشت میں طلب کا دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔تاہم مہنگائی کی ہر قسم صرف شرح سود سے ختم نہیں ہوتی۔ پاکستان میں خوراک، توانائی اور ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں اضافے جیسے عوامل بھی افراطِ زر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے بھی اپنی ستمبر 2026 کی جائزہ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی کہ حالیہ مہنگائی کے دباؤ میں خوراک، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے عوامل اہم رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کا شرح سود سے متعلق کیا مؤقف ہے؟
پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں معاشی اشاریوں اور مستقبل کی مہنگائی سے متعلق اپنے تخمینے پیش کیے ہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق حکام کو توقع ہے کہ دسمبر کے بعد مہنگائی میں بتدریج کمی آ سکتی ہے۔دوسری جانب آئی ایم ایف مہنگائی کے خطرات کے پیش نظر مانیٹری پالیسی کو محتاط رکھنے پر زور دے رہا ہے۔ اس اختلاف کا تعلق اس سوال سے ہے کہ موجودہ شرح سود مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے کافی ہے یا مزید سخت پالیسی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
آئی ایم ایف مذاکرات کا پاکستانی معیشت پر کیا اثر ہوگا؟
آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں شرح سود کے علاوہ ایکسچینج ریٹ، مالیاتی نظم و ضبط، ساختی اصلاحات اور دیگر معاشی اہداف بھی زیر بحث ہیں۔ موجودہ جائزے کی کامیاب تکمیل پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مجموعی مالی معاونت کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے ساتھ معاشی سرگرمی اور سرمایہ کاری کو بھی متاثر ہونے سے بچایا جائے۔ بلند شرح سود ایک طرف قیمتوں کے دباؤ کو محدود کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب قرض کی لاگت بڑھنے سے کاروباری سرگرمیوں پر اثر پڑنے کا امکان بھی موجود رہتا ہے
مزید پڑھیں
اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا وزیراعظم سے سرکاری مقام پر ملاقات سے انکار










