رائل ایئر فورس فئیر فورڈ میں دہشتگردی کی مبینہ منصوبہ بندی، ایک شخص گرفتار اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا وزیراعظم سے سرکاری مقام پر ملاقات سے انکار آئی ایم ایف مذاکرات: مہنگائی پر قابو پانے کیلئے شرح سود بلند رکھنے کی تجویز پیوٹن: ایرانی قوم کی ہمت اور ثابت قدمی نے دنیا کو حیران کردیا
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا وزیراعظم سے سرکاری مقام پر ملاقات سے انکار

MAHMOOD ACHAKZAI REFUSES MEETING AT PM HOUSE

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف سے سرکاری مقام پر ملاقات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم سے پاکستان میں کسی بھی مقام پر ملاقات کے لیے تیار ہیں، تاہم وزیراعظم ہاؤس، وزیراعظم آفس یا اسپیکر کے چیمبر میں ملاقات نہیں کریں گے۔یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مختلف آئینی، سیاسی اور پارلیمانی امور پر رابطے جاری ہیں۔

محمود اچکزئی نے سرکاری دفتر میں ملاقات سے کیوں انکار کیا؟

محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ وزیراعظم سے ملاقات کے لیے کسی بھی غیر سرکاری مقام پر بیٹھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں کہیں بھی، حتیٰ کہ کسی درخت کے نیچے بھی ملاقات کے لیے تیار ہیں، لیکن وزیراعظم ہاؤس، وزیراعظم آفس یا اسپیکر کے چیمبر میں نہیں جائیں گے۔

ان کا یہ بیان حکومت کی جانب سے ملاقات کی دعوت کے جواب میں سامنے آیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کی دعوت کیوں دی؟

رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے محمود اچکزئی کو ملاقات کی دعوت دی تھی۔ اس ملاقات میں اہم آئینی معاملات سمیت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نئی تقرریوں کے معاملے پر مشاورت متوقع تھی۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم کے درمیان آئینی مشاورت کے حوالے سے رابطے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر بھی بات چیت جاری ہے۔

محمود اچکزئی نے متبادل مقام پر ملاقات کی پیشکش کردی

اپوزیشن لیڈر نے سرکاری مقام پر ملاقات سے انکار کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم یا کسی بھی سیاسی رہنما سے ان کی رہائش گاہ سمیت کسی دوسرے مقام پر ملاقات کرسکتے ہیں۔اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتراض ملاقات پر نہیں بلکہ ملاقات کے مقام پر ہے، جبکہ سیاسی اور آئینی معاملات پر بات چیت کا امکان برقرار ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بھی مشاورت جاری

محمود اچکزئی کے بیان سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس بھی ہوا، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئینی و پارلیمانی معاملات اور حکومت کے ساتھ مذاکرات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اپوزیشن اتحاد کی جانب سے حکومت کے ساتھ رابطوں کے معاملے پر بھی مشاورت جاری ہے، جبکہ بعض اپوزیشن رہنماؤں نے حکومتی دعوت پر مذاکرات میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کا معاملہ

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ممکنہ ملاقات ایسے وقت میں اہمیت اختیار کر گئی ہے جب دونوں جانب سے سیاسی اور پارلیمانی معاملات پر مختلف مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں سے بات چیت کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ اپوزیشن بھی اپنے مؤقف کے ساتھ مذاکرات کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔محمود اچکزئی نے ملاقات کے مقام کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کردیا ہے، تاہم ان کے بیانات کے مطابق وزیراعظم سے بات چیت کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں
رائل ایئر فورس فئیر فورڈ میں دہشتگردی کی مبینہ منصوبہ بندی، ایک شخص گرفتار

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین