لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں لنگر یا کچن کے معاملے پر قیدیوں کے درمیان شدید جھگڑا ہوگیا، جس کے نتیجے میں ایک قیدی جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد پولیس اور جیل حکام نے کارروائی شروع کردی جبکہ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے درمیان جھگڑا کیسے ہوا؟
رپورٹس کے مطابق کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے دو گروپس کے درمیان لنگر کے معاملے پر تنازع پیدا ہوا۔ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کے مطابق جھگڑے کے دوران کئی قیدی زخمی ہوئے جبکہ ایک قیدی جانبر نہ ہوسکا۔واقعے کے بعد جیل میں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے متعلقہ حکام نے کارروائی شروع کی اور زخمی قیدیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
42 سالہ قیدی اشرف جاں بحق
حکام کے مطابق جھگڑے میں شدید زخمی ہونے والے 42 سالہ اشرف ولد برکت کو لاہور کے جنرل اسپتال منتقل کیا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی۔رپورٹس کے مطابق اشرف قتل کے مقدمے میں کوٹ لکھپت جیل میں قید تھا۔ اس کی لاش کو مزید قانونی کارروائی کے لیے مردہ خانے منتقل کردیا گیا۔
ایک قیدی زخمی، اسپتال میں زیر علاج
جھگڑے کے دوران فلک شیر نامی ایک قیدی بھی زخمی ہوا۔ جسے طبی امداد کے لیے جنرل اسپتال منتقل کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق فلک شیر منشیات کے مقدمے میں جیل میں قید تھا۔ واقعے کے بعد اس کا علاج جاری ہے۔ایکسپریس اردو کے مطابق مجموعی طور پر چار قیدی زخمی ہوئے۔ جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔
پولیس نے قانونی کارروائی شروع کردی
واقعے کی اطلاع ملتے ہی کوٹ لکھپت پولیس موقع پر پہنچی اور قانونی کارروائی کا آغاز کردیا۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے بھی متعلقہ حکام کو واقعے سے آگاہ کیا گیا۔زخمی قیدیوں کو جنرل اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد جیل افسران اور پولیس اہلکار بھی اسپتال میں موجود رہے۔ تاکہ زخمیوں کی صورتحال اور قانونی کارروائی کی نگرانی کی جاسکے۔
پنجاب حکومت نے اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا
پنجاب کے ہوم سیکریٹری نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے۔ اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے تین ڈی آئی جیز پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی میں ڈی آئی جی جیل خانہ جات لاہور محسن رفیق۔ ڈی آئی جی جیل خانہ جات ہیڈکوارٹرز شوکت فیروز اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات انسپیکشن نوید رؤف شامل ہیں۔ کمیٹی زخمی قیدیوں اور جیل عملے کے بیانات ریکارڈ کرکے واقعے کی وجوہات کا جائزہ لے رہی ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات میں ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے گا ۔قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ زخمی قیدیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
برطانیہ میں پاکستانی سرجن کا منفرد کارنامہ، سنگل پورٹ روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری میں تاریخ رقم










