بھارت کی ریاست تامل ناڈو میں سرکاری اسپتالوں اور پرائمری ہیلتھ سینٹرز میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے مفت سونے کی انگوٹھی دینے کی اسکیم شروع کردی گئی ہے۔ ’تھائی مامن تھنگا موتھیرم تھٹم‘ نامی اس منصوبے کے تحت ہر اہل نومولود کو ایک گرام کی 22 قیراط سونے کی انگوٹھی دی جائے گی۔
مدورائی سے اسکیم کا آغاز
اس اسکیم کا باقاعدہ آغاز 28 ستمبر کو مدورائی کے گورنمنٹ راجائی اسپتال سے کیا گیا، جہاں وزیراعلیٰ سی جوزف وجے نے نومولود بچوں کو سونے کی انگوٹھیاں دیں۔ افتتاحی تقریب میں مجموعی طور پر 27 بچوں کو انگوٹھیاں فراہم کی گئیں۔
ہر بچے کو ایک گرام سونا
اسکیم کے تحت ہر اہل بچے کو ایک گرام، 22 قیراط سونے کی انگوٹھی دی جائے گی۔ حکومت کے مطابق انگوٹھیوں پر منفرد سیریل نمبر ہوگا اور انہیں محفوظ پیکیجنگ میں فراہم کیا جائے گا۔
22 جون سے پیدا ہونے والے بچے اہل
حکومت نے اسکیم کا اطلاق 22 جون 2026 سے سرکاری اسپتالوں اور پرائمری ہیلتھ سینٹرز میں پیدا ہونے والے اہل بچوں پر کیا ہے۔ اس طرح افتتاح سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کو بھی اس اسکیم میں شامل کیا گیا ہے۔
اسکیم کا مقصد کیا ہے؟
تامل ناڈو حکومت کے مطابق اس منصوبے کا مقصد سرکاری اسپتالوں میں زچگی کی حوصلہ افزائی، ماں اور بچے کی صحت پر توجہ اور سرکاری طبی اداروں پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط کرنا ہے۔
سالانہ 755 کروڑ روپے سے زائد مختص
اس منصوبے کے لیے ریاستی حکومت نے سالانہ 755.83 کروڑ بھارتی روپے مختص کیے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں 1.28 لاکھ سونے کی انگوٹھیاں تیار کرائی گئی ہیں تاکہ اہل بچوں میں تقسیم کی جاسکیں۔
کون بچے اسکیم کے اہل ہیں؟
سرکاری معلومات کے مطابق بچے کی والدہ کا تامل ناڈو کی مستقل رہائشی ہونا اور متعلقہ PICME نظام میں رجسٹریشن کے ساتھ RCH ID حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسپتال انتظامیہ ضروری ریکارڈ کی تصدیق کے بعد انگوٹھی فراہم کرے گی۔
اسپتال سے ڈسچارج کے وقت انگوٹھی
نئی پیدائشوں کے لیے انگوٹھی اسپتال سے ڈسچارج کے وقت فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ جبکہ 22 جون سے اسکیم کے آغاز تک پیدا ہونے والے بچوں کے لیے ریاست بھر میں مختلف مراکز کے ذریعے تقسیم کا عمل جاری رہے گا۔
تامل ناڈو بھر میں تقسیم
اسکیم کو ریاست بھر میں نافذ کیا جارہا ہے۔ ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو انگوٹھیوں کے ذخیرے، تقسیم اور ریکارڈ کی نگرانی کریں گی۔
مزید پڑھیں
مری: اسکول وین سڑک سے نیچے جاگری، آگ لگنے سے 10 بچے زخمی









