پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آج سے باضابطہ مذاکرات کا آغاز موسلادھار بارش نے اسلام آباد اور راولپنڈی کو لپیٹ میں لے لیا، رین ایمرجنسی نافذ اسرائیل نے رام اللہ میں ڈچ سفارتکاروں کی سفارتی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کردیا جنگ کا کوئی جواز نہیں، اس سے ہتھیار بنانے والے صرف پیسہ کماتے ہیں: سلویسٹر اسٹالون
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

جنگ کا کوئی جواز نہیں، اس سے ہتھیار بنانے والے صرف پیسہ کماتے ہیں: سلویسٹر اسٹالون

Sylvester Stallone speaking about war and its impact on soldiers and

ہالی ووڈ کے معروف اداکار سلویسٹر اسٹالون نے جنگ اور مسلح تنازعات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت کے ساتھ جنگ کے حوالے سے ان کی سوچ تبدیل ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگیں دونوں فریقوں کو نقصان پہنچاتی ہیں جبکہ نوجوان فوجیوں اور عام لوگوں کو اس کے سنگین اثرات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

جنگ کے بارے میں سوچ تبدیل ہوگئی

سلویسٹر اسٹالون نے حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ ماضی میں جنگ کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر مختلف تھا، تاہم وقت گزرنے اور جنگ کے حقیقی اثرات کو سمجھنے کے بعد ان کی رائے تبدیل ہوئی۔ ان کے مطابق اب وہ جنگ کو بے فائدہ اور تباہ کن سمجھتے ہیں۔

ریمبو کے کردار کا بھی ذکر

انٹرویو کے دوران سلویسٹر اسٹالون سے ان کی مشہور فلمی شخصیت ریمبو کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایک دور میں ریمبو کے کردار میں جنگ کے حوالے سے ان کی اپنی سوچ کی جھلک موجود تھی، تاہم اب وہ اس معاملے کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔

جنگ میں نوجوان فوجیوں کو نقصان

اداکار نے کہا کہ جنگ کے دوران نوجوان فوجیوں کو اپنی جان اور جسمانی صحت کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے بعد بھی متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کو طویل عرصے تک مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ہتھیار بنانے والی صنعت پر سوال

اسٹالون نے جنگ کے معاشی پہلو پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگی سرگرمیوں اور ہتھیاروں کی تیاری میں بڑی رقوم شامل ہوتی ہیں، جبکہ میدان میں جانے والے نوجوان اس تنازع کے براہ راست نتائج برداشت کرتے ہیں۔

جنگ میں کوئی شان نہیں، اسٹالون

اداکار نے اپنے ماضی کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی جنگ کے زیادہ حامی تھے، لیکن بعد میں جنگ کی حقیقت کو سمجھنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اس میں وہ شان یا بہادری نہیں جو بعض اوقات فلموں اور مقبول ثقافت میں دکھائی جاتی ہے۔

دفاع کو الگ معاملہ قرار دیا

سلویسٹر اسٹالون نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی ملک پر حملہ کیا جائے تو اس کے دفاع کو وہ الگ معاملہ سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق جنگ شروع ہونے اور کسی حملے کے خلاف دفاع کرنے میں فرق موجود ہے۔

جنگ کے طویل مدتی اثرات

اسٹالون کے مطابق جنگیں صرف فوری نقصان تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات کئی برسوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعات کے بعد دشمنیاں برقرار رہتی ہیں، معاشرے متاثر ہوتے ہیں اور بعض اوقات سرحدوں اور سیاسی حالات میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔

ماضی کے مؤقف سے مختلف رائے

اسٹالون نے اعتراف کیا کہ ماضی میں وہ جنگ کے حوالے سے زیادہ پرجوش مؤقف رکھتے تھے۔ ان کے مطابق بعد میں مطالعے اور جنگ کے حقیقی نتائج کو سمجھنے سے ان کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی۔

ریمبو اور جنگ کی حقیقت

سلویسٹر اسٹالون کی فلمی شناخت میں ریمبو کا کردار ایک اہم مقام رکھتا ہے، تاہم اداکار نے حالیہ گفتگو میں فلمی ایکشن اور حقیقی جنگ کے درمیان فرق پر بات کی۔ ان کے مطابق حقیقی جنگ کے اثرات انتہائی سنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کا بوجھ صرف میدان میں موجود افراد تک محدود نہیں رہتا۔
مزید پڑھیں
اسرائیل نے رام اللہ میں ڈچ سفارتکاروں کی سفارتی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کردیا

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین