اسرائیل نے رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ کام کرنے والے ڈچ سفارتکاروں کی سفارتی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ نیدرلینڈز کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر تجارتی پابندی کے بعد کیا گیا۔
ڈچ سفارتکاروں کو سات دن کی مہلت
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر کے مطابق رام اللہ میں کام کرنے والے ڈچ سفارتکاروں کو اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ سفارتی دستاویزات سات دن کے اندر واپس کرنا ہوں گی۔ اس مدت کے بعد اسرائیل کی طرف سے دی گئی سفارتی مراعات اور استثنیٰ ختم ہوجائیں گے۔
اسرائیل کا فیصلہ کیوں سامنے آیا؟
اسرائیل نے اپنے فیصلے کو نیدرلینڈز کی نئی تجارتی پالیسی سے جوڑا ہے۔ نیدرلینڈز نے 22 ستمبر سے اسرائیلی بستیوں سے تیار یا حاصل ہونے والی مصنوعات کی درآمد، خرید و فروخت پر پابندی نافذ کی ہے۔
ڈچ حکومت کی نئی پابندیاں
رپورٹس کے مطابق ڈچ پابندی صرف تجارتی درآمدات تک محدود نہیں بلکہ ایسی مصنوعات کی خرید و فروخت اور ان کی تجارت میں سہولت فراہم کرنے والی بعض خدمات کو بھی شامل کرتی ہے۔ یہ پابندی مغربی کنارے کے اسرائیلی آبادکاری علاقوں سے متعلق ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ کا مؤقف
گیڈون ساعر نے کہا ہے کہ اگر نیدرلینڈز فلسطینیوں کے ساتھ اپنے مفادات کی نمائندگی جاری رکھنا چاہتا ہے تو یہ کام فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقے سے کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے ڈچ اقدامات کو اپنے خلاف یکطرفہ پالیسی قرار دیا ہے۔
سفارتی استثنیٰ ختم ہوگا
اسرائیلی اعلان کے مطابق سات روز کی مدت ختم ہونے کے بعد متعلقہ ڈچ سفارتکاروں کو اسرائیل کی جانب سے حاصل سفارتی مراعات اور استثنیٰ حاصل نہیں رہیں گے۔ تاہم دستیاب رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کا مطلب لازماً رام اللہ میں ڈچ نمائندگی کے دفتر کی فوری بندش نہیں ہے۔
پہلے بھی کارروائی کی جاچکی ہے
اسرائیل نے اگست میں بھی ڈچ نمائندوں کو غزہ کے لیے قائم ایک بین الاقوامی معاونتی مرکز سے دور کردیا تھا۔ اس وقت بھی اسرائیلی حکام نے نیدرلینڈز کے اسرائیل سے متعلق اقدامات کو فیصلے کی وجہ قرار دیا تھا۔
دیگر ممالک کے اقدامات
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ، فرانس اور کینیڈا سمیت بعض دیگر ممالک نے بھی اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے ان ممالک کے خلاف اقدامات کی نوعیت مختلف رہی ہے۔
نیدرلینڈز کا ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی اعلان کے وقت نیدرلینڈز کی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ اس لیے آئندہ سفارتی اقدامات کے بارے میں فی الحال حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
سفارتی تعلقات میں ایک اور تناؤ
اسرائیل اور نیدرلینڈز کے درمیان یہ تازہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان پالیسی اختلافات کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ ڈچ پابندیوں کے جواب میں اسرائیل کا سفارتی اقدام خطے میں جاری وسیع تر سفارتی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے
مزید پڑھیں
موسلادھار بارش نے اسلام آباد اور راولپنڈی کو لپیٹ میں لے لیا، رین ایمرجنسی نافذ










