پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آج 28 ستمبر سے اسلام آباد میں باضابطہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ مذاکرات میں پاکستانی اقتصادی ٹیم اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان ملکی معیشت، مالیاتی اہداف اور اصلاحات سے متعلق امور کا جائزہ لیا جائے گا۔
چوتھے اقتصادی جائزے پر بات چیت
مذاکرات پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) پروگرام کے چوتھے جائزے سے متعلق ہیں۔ اس کے ساتھ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تیسرے جائزے پر بھی بات ہوگی۔
وزیر خزانہ کی قیادت میں پاکستانی وفد
مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خزانہ کریں گے، جبکہ آئی ایم ایف مشن کی جانب سے متعلقہ حکام شرکت کریں گے۔ دونوں فریق 30 جون تک کے معاشی اعداد و شمار اور پروگرام کے تحت کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیں گے۔
ٹیکس اصلاحات بھی زیر بحث
مذاکرات میں ایف بی آر کی کارکردگی، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ٹیکس وصولی میں بہتری کے اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوگی۔ صوبائی حکومتوں سے ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن بڑھانے کے معاملات بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے۔
گردشی قرض اور توانائی کا شعبہ
وزارت توانائی کی جانب سے گردشی قرضے میں کمی اور توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات پر آئی ایم ایف کو بریفنگ دی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے مالیاتی دباؤ کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔
ساورن ویلتھ فنڈ پر بھی بات ہوگی
پاکستانی حکام آئی ایم ایف کو ساورن ویلتھ فنڈ سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔ اس کے علاوہ چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ نہ کرنے کی وجوہات اور دیگر پالیسی معاملات بھی مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔
زرمبادلہ ذخائر اور شرح تبادلہ
آئی ایم ایف کو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر، شرح تبادلہ، درآمدات، کرنٹ اکاؤنٹ اور مجموعی بیرونی شعبے کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔ اسٹیٹ بینک حکام پہلے ہی مشن کو معاشی صورتحال سے آگاہ کرچکے ہیں۔
کامیاب مذاکرات کے بعد اگلا مرحلہ
مذاکرات میں پیش رفت کی صورت میں آئی ایم ایف کی جانب سے پروگرام کے اگلے جائزے کی منظوری کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ تیار کیا جاسکتا ہے۔ جائزے کی کامیاب تکمیل کے بعد پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مجموعی رقم تک رسائی مل سکتی ہے، جس میں EFF کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور RSF کے تحت تقریباً 200 ملین ڈالر شامل ہیں
مزید پڑھیں
جنگ کا کوئی جواز نہیں، اس سے ہتھیار بنانے والے صرف پیسہ کماتے ہیں: سلویسٹر اسٹالون











