امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق آئندہ پالیسی کے بارے میں کہا ہے کہ ان کے سامنے ایک بڑا فیصلہ موجود ہے۔ انہوں نے ایران کے حوالے سے مذاکرات یا مزید سخت اقدامات کے امکانات کا ذکر کیا۔ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ یا تو ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہوسکتا ہے جس کے بعد ملک دوبارہ تعمیر کی طرف جائے، یا پھر سخت کارروائی کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
ٹرمپ کا ایران پر سخت مؤقف
ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کو اپنی پالیسی کا اہم معاملہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
مذاکرات کا امکان بھی موجود
امریکی صدر نے سخت بیانات کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا امکان موجود ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کی کوششیں بھی جاری رہی ہیں۔
ایران پر دباؤ کی پالیسی
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔ امریکی مؤقف کے مطابق یہ اقدامات ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی پالیسیوں سے متعلق خدشات کی وجہ سے کیے جا رہے ہیں۔
ایران کا ردعمل
ایرانی حکام امریکی دباؤ اور دھمکیوں کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کا دفاع کرے گا اور کسی بھی مذاکرات میں اپنی شرائط کو اہمیت دے گا۔
خطے پر ممکنہ اثرات
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کا اثر مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سفارتی تعلقات پر پڑ سکتا ہے۔ عالمی رہنما اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بڑا فیصلہ ابھی واضح نہیں
ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے حوالے سے آئندہ حکمت عملی پر غور کر رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ اور اس کے عملی اقدامات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
مزید پڑھیں
موٹر وے ایم ون آج رات 11 بجے بند کردی جائے گی، ہر قسم کی ٹریفک کیلئے آمدورفت معطل رہے گی










