امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو امریکا آنے کے لیے ویزے جاری کردیے ہیں۔ دونوں ایرانی حکام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ کریں گے۔
اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت کیلئے ویزے جاری
رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی ویزے فراہم کیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کا مرکزی اجلاس نیویارک میں منعقد ہوتا ہے، جس میں دنیا بھر کے رہنما شرکت کرتے ہیں۔
امریکا ایران کشیدگی کے دوران اہم پیش رفت
ایرانی حکام کو امریکی ویزے ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ
امریکی حکام کے مطابق ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کو ویزے جاری کرنے کا فیصلہ اقوام متحدہ کے میزبان ملک کی ذمہ داریوں کے تحت کیا گیا۔ امریکا اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے نمائندوں کو اجلاس میں شرکت کیلئے سفارتی سہولت فراہم کرتا ہے۔
عباس عراقچی بھی وفد کا حصہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ایرانی وفد کے ہمراہ امریکا جائیں گے۔ وہ عالمی رہنماؤں اور سفارتی نمائندوں سے ملاقاتوں کے دوران ایران کے مؤقف کو پیش کرسکتے ہیں۔
مذاکرات کے امکانات پر نظر
ایرانی حکام کے دورہ امریکا کے دوران عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں پر بھی نظر رکھی جائے گی۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوں گے یا نہیں۔
ایران کا مؤقف
ایرانی حکومت مسلسل کہتی رہی ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کا دفاع کرے گی اور بین الاقوامی معاملات میں سفارتی ذرائع کو اہمیت دیتی ہے۔ تہران امریکی پابندیوں اور دباؤ کی پالیسی پر تنقید کرتا رہا ہے۔
عالمی سطح پر اہمیت
ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کا امریکا کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال، جوہری مذاکرات اور علاقائی کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔
مزید پڑھیں
آئی فون 18 پرو کا نیا فیچر جعلی تصاویر کی روک تھام میں مددگار ہوگا










