بشار الاسد کے خفیہ کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کی باقیات تلف کرنے کا آغاز اصدر ٹرمپ کا ایران جنگ سے متعلق بڑا دعویٰ، ’’ہم یہ جنگ پہلے ہی جیت چکے ہیں‘‘ بلاول بھٹو زرداری پیرس کا مختصر قیام مکمل کرکے لندن پہنچ گئے سمریتی مندھانا کا شاندار کارنامہ، ویمنز انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز اور سنچریوں کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

اسلام آباد کا نیا انتظامی نقشہ وزیراعظم کو پیش، 27 رکنی اسمبلی کی سفارش

two-families-rule-pakistan-kp-chief-minister-statement

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی تجویز سامنے آگئی ہے۔ اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی نے اسلام آباد کے مستقبل کے انتظامی ماڈل سے متعلق مجوزہ ڈرافٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردیا ہے، جس میں 27 رکنی اسمبلی، منتخب چیف ایگزیکٹو اور 27 انتظامی محکموں کے قیام کی سفارش کی گئی ہے۔

27 رکنی اسمبلی کی تجویز

مجوزہ انتظامی ڈھانچے کے تحت اسلام آباد کی اپنی اسمبلی قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسمبلی کے 21 ارکان براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں گے، جبکہ خواتین کے لیے 5 اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مخصوص رکھنے کی تجویز ہے۔ اس تجویز کے مطابق اسلام آباد کی اسمبلی کے انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تحت کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے، جبکہ منتخب ارکان پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ہوگا۔

چیف ایگزیکٹو کا عہدہ

نئے انتظامی ماڈل میں اسلام آباد کے لیے ایک منتخب چیف ایگزیکٹو مقرر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ عہدہ وزیراعلیٰ یا میئر کے نام سے ہو سکتا ہے اور چیف ایگزیکٹو اپنی منتخب اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہوگا۔اس اقدام کا مقصد وفاقی دارالحکومت کے انتظامی معاملات میں منتخب نمائندوں کا کردار بڑھانا اور مقامی سطح پر فیصلوں کا نظام زیادہ مؤثر بنانا بتایا جارہا ہے۔

27 انتظامی محکمے بنانے کی سفارش

مجوزہ ڈرافٹ میں اسلام آباد حکومت کے تحت 27 انتظامی محکمے قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ دارالحکومت کے انتظامی امور چلانے کے لیے چیف سیکرٹری اور چار سیکرٹریز کی تعیناتی کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری سہولیات سمیت مختلف شعبوں کو مقامی حکومت کے دائرہ اختیار میں دینے کی تجویز ہے، جبکہ بعض اہم معاملات وفاقی حکومت کے پاس برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سی ڈی اے کے اختیارات بھی تبدیل ہونے کا امکان

نئے انتظامی ماڈل میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) سمیت مختلف اداروں کے اختیارات کی ازسرنو تقسیم کی تجویز بھی شامل ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے کے اختیارات اور بعض ذمہ داریاں اسلام آباد کی منتخب حکومت کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم قانون و امن اور اسلام آباد کی ماسٹر پلاننگ جیسے معاملات وفاقی حکومت کے پاس رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

حتمی فیصلہ ابھی باقی

اسلام آباد کے نئے انتظامی ڈھانچے سے متعلق یہ تجاویز فی الحال مجوزہ ڈرافٹ کا حصہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق حتمی منظوری کے بعد ہی اس منصوبے پر عملی پیش رفت ہوسکے گی۔ رپورٹس کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قانون سازی کا مرحلہ بھی آسکتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ منظور ہوجاتا ہے تو اسلام آباد کے انتظامی نظام میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے اور وفاقی دارالحکومت کو منتخب مقامی حکومت اور چیف ایگزیکٹو کے ذریعے چلانے کا نیا ماڈل سامنے آئے گا۔
مزید پڑھیں
دو خاندان پورے پاکستان پر مسلط ہیں، پنجاب اور سندھ میں بھی انہی کی حکومتیں بنتی آرہی ہیں: وزیراعلیٰ کے پی

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین