سپریم کورٹ نے تیزاب گردی کے ایک اہم مقدمے میں فیصل آباد کی اقرا پروین پر تیزاب پھینکنے والے مجرم عبدالمنان کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے کم عمری کی بنیاد پر سزا میں کمی کی اپیل مسترد کر دی۔
عمر قید کی سزا برقرار
عدالت نے قرار دیا کہ منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے سنگین جرائم میں کم عمری کو رعایت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے مطابق تیزاب گردی ایک انتہائی ہولناک جرم ہے جس کے اثرات متاثرہ شخص کو زندگی بھر برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
متاثرہ خاتون کو معاوضہ
سپریم کورٹ نے مجرم کو حکم دیا کہ وہ متاثرہ خاتون اقرا پروین کو دس لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرے تاکہ متاثرہ خاتون کی بحالی میں مدد مل سکے۔
تیزاب کی فروخت پر سخت نگرانی
عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ تیزاب کی کھلی فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور خرید و فروخت کے لیے بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
متاثرین کی بحالی کیلئے اقدامات
فیصلے میں حکومت کو تیزاب حملوں کے متاثرین کے لیے قومی بحالی فنڈ قائم کرنے، مفت طبی علاج فراہم کرنے اور خصوصی سہولیات و مراعات دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
حماس کی بڑی کامیابی، اسرائیل غزہ میں ابو سالم اور رفح کراسنگ کھولنے پر مجبور











