گردوں کی خطرناک بیماری
گردے انسانی جسم کے اہم اعضا ہیں جو خون کو صاف کرکے فاضل مادے اور اضافی پانی پیشاب کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق گردوں کی خرابی کی بروقت تشخیص نہ کی جائے تو یہ سنگین بیماریوں اور گردے فیل ہونے تک کا سبب بن سکتی ہے۔
پیشاب میں تبدیلی
گردوں کی خرابی کی سب سے پہلی علامت پیشاب میں تبدیلی ہے۔ بار بار پیشاب آنا، خاص طور پر رات کے وقت، جھاگ دار پیشاب، خون آنا یا پیشاب میں دشواری اس مسئلے کی طرف اشارہ ہو سکتی ہے۔
جسم میں سوجن
جب گردے اضافی پانی اور نمکیات کو خارج نہیں کر پاتے تو جسم کے مختلف حصوں میں سوجن ظاہر ہونے لگتی ہے۔ پیروں، ٹخنوں، چہرے اور آنکھوں کے گرد سوجن عام علامت ہے۔
مسلسل تھکاوٹ اور کمزوری
گردوں کی خرابی کی صورت میں جسم میں فاضل مادے جمع ہو جاتے ہیں اور خون کی کمی بھی ہو سکتی ہے جس کے باعث مریض ہر وقت تھکاوٹ اور کمزوری محسوس کرتا ہے۔
جلد کی خارش اور خشکی
گردے صحیح کام نہ کریں تو جسم سے زہریلے مادے مکمل طور پر خارج نہیں ہو پاتے جس سے جلد پر خارش، خشکی اور دانے پیدا ہو سکتے ہیں۔
متلی اور بھوک میں کمی
گردوں کی خرابی کے باعث نظامِ ہاضمہ متاثر ہوتا ہے جس سے متلی، الٹی، بھوک میں کمی اور منہ سے بدبو جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔
پٹھوں میں درد
پوٹاشیم اور کیلشیم جیسے اہم معدنیات کا عدم توازن پٹھوں میں درد اور کھچاؤ کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر ٹانگوں میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا جاتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کا خطرہ
ماہرین کے مطابق ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر گردوں کی بیماری کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ یہ دونوں بیماریاں گردوں کے فلٹرز کو آہستہ آہستہ نقصان پہنچاتی ہیں۔
اختتامی مشورہ
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علامات کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کو باقاعدگی سے گردوں کے ٹیسٹ کروانے چاہئیں تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں
انسٹاگرام اکاؤنٹس خطرے میں، میٹا کا اے آئی چیٹ بوٹ ہیکرز کا معاون بن گیا










