موٹروے گینگ ریپ کیس
دنیا کے معروف بزنس مین ایلون مسک نے پاکستان کے عدالتی فیصلے کو سراہتے ہوئے موٹروے گینگ ریپ کیس میں مجرموں کی سزائے موت برقرار رکھنے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو انصاف کی مثال قرار دیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے بدھ کے روز موٹروے گینگ ریپ کیس میں مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں خارج کر دی تھیں، جس کے بعد انسدادِ دہشت گردی عدالت کا سابقہ فیصلہ برقرار رہا۔
ایلون مسک کا ردعمل
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پر ایک برطانوی رکن پارلیمان کے پیغام کے جواب میں کہا کہ ایسے فیصلے متاثرین کے لیے انصاف کی علامت ہیں اور دنیا کو بھی ایسے سخت اور مؤثر عدالتی اقدامات کرنے چاہئیں۔
بین الاقوامی ردعمل
برطانوی رکن پارلیمان نے بھی اس فیصلے کو پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق ایسے فیصلے انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کیس کا پس منظر
موٹروے گینگ ریپ کیس 2020 میں پیش آیا تھا جس نے ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر پیدا کی۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 2021 میں دونوں مجرموں کو سزائے موت سنائی تھی، جس کے خلاف انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
مزید پڑھیں
پاکستان سے متعلق سوال پر روسی صدر نے بھارتی صحافی کو کرارا جواب دے دیا










