پاکستان سے متعلق سوال
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاکستان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے بھارتی صحافی کے دعوے کو رد کر دیا اور کہا کہ پاکستان کو کسی ایک ملک کے زیر اثر قرار دینا درست نہیں۔
پاکستان ایک بڑا اور آزاد ملک ہے
سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم کے دوران ایک بھارتی صحافی نے سوال کیا کہ کیا پاکستان چین کے زیر اثر ہے۔ اس پر صدر پیوٹن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے، پاکستان ایک بڑا ملک ہے اور اس کے مختلف ممالک کے ساتھ آزادانہ تعلقات ہیں۔
چین کے ساتھ تعلقات پر روسی مؤقف
پیوٹن نے اس موقع پر روس اور چین کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور اسٹریٹجک تعاون جاری ہے اور یہ تعاون مستقبل میں بھی برقرار رہے گا۔
ایران اور عالمی بحران پر بات چیت
ایران سے متعلق سوال پر روسی صدر نے کہا کہ ماسکو تہران کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات رکھتا ہے اور خطے کے بحران کے حل میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یوکرین جنگ پر مؤقف
پیوٹن نے یوکرین جنگ سے متعلق بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ روس نے حالیہ عرصے میں یوکرین کے تقریباً دو ہزار چار سو چالیس مربع کلومیٹر علاقے پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس تنازع کے پرامن حل کے لیے تیار ہے۔
مزید پڑھیں
کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کیلئے بجلی مزید مہنگی، نوٹیفکیشن جاری











